قومی اسمبلی اجلاس، پیپلز پارٹی کی ناز بلوچ نے تحریک انصاف کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی اسمبلی نے اسمبلی قواعد و ضوابط کے تین قواعد میں ترامیم اور پاکستان میری ٹائم زونزبل 2021کی منظوری دیدی جبکہ ایوان میں سانحہ پشاور پولیس لائن مسجد دھماکے پر تیسری روزبھی بحث جاری رہی، پیپلز پارٹی کی ناز بلوچ نے تحریک انصاف کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان پارلیمانی سیکرٹری علی زاہد نے تحریک پیش کی کہ ملک کے علاقائی سمندر اور میری ٹائم زونز سے متعلق قانون کو یکجا کرنے اور اس میں ترمیم کرنے کا بل پاکستان میری ٹائم زون بل 2021 زیر غور کیاجائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے یکے بعد دیگرے بل کی تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی جس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری علی زاہد نے تحریک پیش کی کہ بل منظور کیا جائے جس کی ایوان نے منظوری دےدی۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ای کامرس کے ذریعےدرآمد اور برآمد سمیت دیگرخدمات کوبہتر بنانے کےلئے تجارتی تنازعہ تصفیہ بل 2022 کی رپورٹ پیش کردی گئی اس ضمن میں کمیٹی کے چیئرمین خورشید احمد جونیجو نے رپورٹ پیش کرنے میں آج تک کی تاریخ صرف نظر کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان سے منظوری کے بعد خورشید احمد جونیجو نے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے اسمبلی قواعد و ضوابط کے تین قواعد میں ترامیم کی منظوری دے دی اس ضمن میں وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قاعدہ 46، قاعدہ222 اور قاعدہ233 میں یکے بعد دیگرے تین ترامیم پیش کیں۔ سپیکر سے اجازت ملنے پر وفاقی وزیر نے تحریک پیش کی کہ ترامیم زیرغور لائی جائیں۔ سپیکرنے ایوان سے تینوں ترامیم کی منظوری حاصل کی جس کے بعد وزیر پارلیمانی امور نے تحریک پیش کی کہ ترامیم منظور کی جائیں جس پر قومی اسمبلی نے ترامیم کی منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے قائد اعظم فاﺅنڈیشن بل 2023 پیش کردیا ۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی دارالحکومت اسلام آباد ٹرسٹ (ترمیمی ) بل پر رپورٹ پیش کی گئی اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے رپورٹ پیش کرنے میں آج تک کی تاخیر صرف نظر کرنے کی تحریک پیش کی،ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد وزیر پارلیمانی امور نے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2022پررپورٹ پیش کردی گئی۔ وفاقی وزیرپارلیمانی امور مرتضی ٰجاوید عباسی نے ایوان سے کمیٹی رپورٹ کی تاخیر صرف نظر کرنے کی تحریک نہیں کی، اپوزیشن سے تحریک کی منظوری کے بعد وزیرپارلیمانی امور نے کمیٹی رپورٹ ایوان میں پیش نہیں کی۔اجلاس کے دور ان سانحہ پشاور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن ناز بلوچ نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کے دور ان تحریک انصاف کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے کہاکہ یہ وقت ہے ،ہم سب کو امن کیلئے کوشش کرنی چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ پوری پارلیمنٹ کو ایک ہونا چاہیے تاہم افسوس ہے پارلیمنٹ میں اس طرح کی نمائندگی نہیں ۔انہوںنے کہاکہ ایک سیاسی جماعت اپنی ذات سے بالاتر ہوکر نہیں سوچتی ،ایک سیاسی جماعت ملک کو یرغمال بنانا چاہتی ہے ،اس جماعت نے ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ بنا دیا ۔انہوںنے کہاکہ عمران خان کو خواب آتا ہے اور آصف زرداری پر الزام لگا دیتے ہیں۔ناز بلوچ نے کہاکہ مل کی سیاسی قیادت کی جان خطرے میں ڈال دی ہے،عمران خان کو کس نے حق دیا کہ جس مرضی پر الزام لگا دے،یہ عمران خان کا پاکستان نہیں قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ دشمن ممالک کے چینلز پر عمران خان کی تعریفیں ہو رہی ہیں ،اس پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ کیا سازش تھی کہ پاکستان میں ایوسٹمنٹ روک گئی ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک ملک۔کو معاشی تباہی کرنے والی سازشوں کو بے نقاب نہیں کریں گے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ آسیہ عظیم نے کہاکہ بتایا جا رہا ہے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہائی کورٹ ہائی الرٹ پر ہے،وہاں فیملی کورٹس ہیں اور ہم کسی اور حادثے کے متحمل نہیں ہو سکتے،ان عدالتوں کو فوری وہاں سے منتقل کیا جائے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ معاملے کو مرتضیٰ جاوبد عباسی دیکھ لیں گے


