کراچی میں غوث بخش ریسرچ سینٹر اور حاصل بزنجو میموریل لائبریری کے زیر اہتمام فکری نشست
کراچی، کوئٹہ : کراچی میں میرغوث بخش ریسرچ سینٹر اینڈ میرحاصل بزنجو میموریل لائبریری کی طرف سے منعقدہ فکری نشست سے بہ عنوان "پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال”میں جرمنی سے وطن واپس آئے معروف دانشور ،صحافی ،کالم نگار ،شاعراورجرمنی کے ایک بڑے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے میں ایشیا ءانگلش ڈیسک کے سینئر ایڈیٹراینڈ کوآرڈینیٹر شامل شمس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پرنیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر مخدوم ایوب قریشی اور سندھ وحدت کے جنرل سیکرٹری مجیدساجدی نے معزز مہمان کاخیرمقدم کیافکری نشست میں سیدشمس الدین، محمدابرار، بلوچی زبان کے مزاحمتی شاعر غنی پہوال، مزدور رہنما مقدر زمان اور دیگر ساتھیوں نے شرکت کی۔ شامل شمس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ صرف اس وقت بلکہ روزاول سے ہی بحرانوں کا شکار ہے ہمارے ملک کی اشرافیہ نے اپنے گروہی مفادات کے حصول کی خاطر ملک کے کسی بھی ادارے کو پروان چڑھنے کا موقع نہیں دیا یہاں زیادہ تر جرنیلی آمریت رہی ہے لیکن جب جب سول حکومتیں بنیں وہ بھی پارلیمنٹ ،آئین اورقانون کے تابع نہیں رہیں وہ بھی غیر جمہوری مراکز سے کنٹرول ہوتی رہی ہیں اور یہ صورت حال ابھی تک جاری ہے آج یہ حقیقت بچے بچے پر آشکار ہوچکی ہے کہ کس طرح نواز شریف کو نکال کر عمران خان کولایاگہااورپھرکس طرح عمران خان کونکالاگیااس غیر آئینی اکھاڑپچھاڑکی وجہ سے ملک آج ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکا ہے اس وقت ملک شدید ترین آئینی اور معاشی بحران کا شکار ہے ملک تخریب کاری کی لپیٹ میں ہے کروڑوں سیلاب متاثرین سخت سردی کے موسم میں آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں حکمرانوں کوانکی کوئی فکر نہیں ہے وہ عوامی مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے اقتدار کی جنگ لڑرہے اوران سے بہتری کی کوئی امید ہے بھی نہیں کیونکہ یہ اپنے گروہی مفادات میں اندھے ہوگئے ہیں اور ملک کو مزید اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ایسے حالات میں امیدصرف محنت کش طبقے سے کی جاسکتی ہے کہ وہ منظم ہوکر جدوجہد کریں اور عوام کو اس ظالمانہ صورتحال سے نجات دلائیں۔یادرہے کہ شامل شمس مواصلاتی شعبے کے ماہرہیں، ترقیاتی تنظیموں میں کام کرنے کا انہیں 20برس کاتجربہ ہے وہ ڈوئچے ویلے میں ایک درجن سے زائد ایشیائی ممالک کے نامی نگاروں کی ٹیم کے رابطہ کارہیں بین الاقوامی میڈیا کے لیے رپورٹنگ کاوسیع تجربہ رکھتے ہیں اور سیاسی وسماجی امور پرانیکی گہری نظر ہے انہوں نے لنڈن اسکول آف اکنامکس سے ماسٹرکیاہے ترقیاتی امور اور کارپوریٹ مواصلات میں مہارت رکھتے ہیں انہوں نے پاکستان اور بین الاقوامی خبررساں اداروں کے لئے پندرہ سو سے زائد مضامین لکھے ہیں ایکشن ایڈاور یونیسیف کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔


