سینیٹ میں مشرف کی فاتحہ خوانی پر اراکین میں اختلاف، سینیٹر مشتاق احمد نے دعا کروانے سے انکار کردیا
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی فاتحہ خوانی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین میں اختلاف سامنے آیا ہے۔ سینیٹ میں پیر کو یہ اختلاف اس وقت سامنے آیا جب جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے پرویز مشرف کے لیے دعا کروانے سے انکار کر دیا۔ پیر کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین نے سینیٹر مشتاق احمد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ترکی میں زلزلے میں مرنے والوں کے لیے دعا کی جائے۔ جس پر سینیٹر مشتاق اپنی نشست پر دعا کے لیے کھڑے ہوئے تو اس دوران اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے پرویز مشرف کے لیے بھی فاتحہ خوانی کرنے کا کہا، تاہم اس پر سینیٹر مشتاق نے واضح انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف زلزلے میں مرنے والے افراد کے لیے ہی دعا کریں گے، پرویز مشرف کے لیے نہیں۔ اس پر اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے کہا کہ ’پرویز مشرف کے لیے دعا کرنے میں کیا ہرج ہے؟ ہم ان کے لیے دعا کریں گے۔ جو دعا میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ شریک ہو، جو نہیں ہونا چاہتا وہ نہ ہو۔ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے خلاف حکومتی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے آ کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرامند تنگی اور مولا بخش چانڈیو نے ان کے موقف سے اختلاف رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہ (پرویز مشرف) آئین شکن تھا، ان کے لیے دعا نہیں کریں گے۔ تاہم سینیٹر مشتاق کے دعا کروانے سے انکار پر اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے خود ہی پرویز مشرف کے لیے فاتحہ خوانی کروائی۔


