سی پیک منصوبے میں بلوچستان کے عوا م اور گوادر اولین ترجیح ہیں، احسن اقبال

اسلام آباد(اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جمعرات کو سی پیک منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کیں ہیں کہ توانائی اور انفراسٹرکچر پر جوائنٹ ورکنگ گروپس کے اجلاس کریں تاکہ ان سے متعلق منصوبوں پر کام تیز کیا جا سکے۔ اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک ڈاکٹر ندیم جاوید، وزارت خارجہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، حکومت سندھ، حکومت پنجاب، اور دیگر وزارتوں اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے نے شرکاءکو ایم ایل ون اور کے سی آر منصوبے پر بریفنگ دی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چین اور پاکستان کے متعلقہ حکام اور محکمے اپنی طرف سے تمام ضروری سامان فراہم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس منصوبے میں کسی قسم کی مزید تاخیر نہ ہو۔ اجلاس کو علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، رشکئی، بوستان اور دھابیجی ایس ای زیڈز اور گوادر پورٹ اتھارٹی اور گوادر فری زون کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ دریں اثناءبلوچستان حکومت کے نمائندوں نے شرکاءکو واٹر سپلائی سکیموں، درستگی کے تربیتی کمپلیکس اور بجلی کی فراہمی کی صورتحال، گوادر یونیورسٹی، مینٹیننس ڈریجنگ اور گوادر میں 3000 سولر سسٹم کی تنصیب کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کہا کہ چین اور پاکستان سی پیک کوریڈور کی عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں جبکہ تعاون کو مزید شعبوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے پورے پورٹ فولیو میں گوادر اور بلوچستان کی عوام اولین ترجیح رہے ہیں اور آج بھی حکومت ان مسائل سے نجات کے لیے پرعزم ہے۔ جبکہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ واٹر سپلائی سکیموں اور توانائی اور تعلیم سے متعلق منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر نہ ہو۔ انکا مزید کہنا تھا کہ گوادر دنیا کے اعلیٰ ترین بندرگاہی شہروں میں سے ایک کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس میں جدید ترین انفراسٹرکچر، جدید اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ترین بندرگاہ جس میں بہتر صلاحیت اور سماجی و اقتصادی بہبود کے تمام ضروری اجزاءموجود ہیں۔ گوادر کے تین پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں پیش کیے جانے والے کورسز اور مہارتوں کے اوور لیپنگ سے بچنے کے لیے، پروفیسر احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایک جامع منصوبہ تیار کریں جہاں ان اداروں کے کردار اور پیش کردہ مہارتوں کی واضح طور پر وضاحت کی گئی ہو اور انہیں اس سے منسلک کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں