تقسیم کے ذمہ دار ہم خود ہیں، بلوچ قوم کو مردم شماری کے عمل میں متحد ہونا ہوگا، بی این پی عوامی
پنجگور (نمائندہ خصوصی) خانہ اور مردم شماری کے موضوع پر بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ کونسل ہال پنجگور میں ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پنجگور کی تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے َخانہ اور مردم شماری کے موضوع پر تقایریں کیں۔ سیdمینار کے مہمان خاص بی این پی عوامی کے مرکزی لیبر سیکرٹری نور احمد بلوچ تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کی ذمہ داریاں بی این پی عوامی کے ڈپٹی آرگنائزر جلیل احمد سیلانی نے ادا کی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت حاجی مقبول احمد نے حاصل کی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی لیبر سیکرٹری نور احمد بلوچ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن پنجگور کے صدر اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ علاءالدین بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی شوریٰ کے رکن مولوی عبدالحلیم، پیپلز پارٹی مکران کے جنرل سیکرٹری آغا شاہ حسین، بی این پی عوامی کے سینئر رہنما کفایت اللہ بلوچ، نومنتخب چیئرمین میونسپل کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی، ضلعی آرگنائزر رحمدل بلوچ، نثار احمد، پریس کلب کے صدر عمر ماجد اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات ہر جگہ ہوتے ہیں مگر قومی ایشوز پر سب کو یکجہتی کا مظاہرہ کرکے ایک پیج پر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ نفرتوں کے خاتمہ کے لیے سیاسی جمود کو توڑ دیں، آج جس طرح ہم سب مردم شماری کے مسئلے پر اکٹھے ہیں، باقی مسائل پر بھی ہم یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور پنجگور کی ترقی، یہاں کے عوام کے خوشحالی اور ایک پرامن ماحول کے قیام کے لیے ہم سب اکٹھا ہوکر چلیں گے تو ہم عوام کو ایک مثبت سوچ اور ترقی کی جانب گامزن کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی وسائل کا تقسیم آبادی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، بلوچستان کی آبادی کم اور رقبہ وسیع ہے جو ترقی کے آگے رکاوٹ ہے، گزشتہ مردم شماری میں ہماری اپنی لاپرواہی کی وجہ سے آبادی کا ایک حصہ مردم شماری کے عمل سے رہ گیا تھا جس کا نقصان ہمیں ایک سیٹ کم ہونے پر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں سیاسی معاملات پر بلاشبہ اختلاف رکھیں مگر جو ایشوز اجتماعی ہوتے ہیں ان پر سیاست کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آنے والی نسل کی مستقبل کا درومدار مردم شماری پر ہے اگر یہاں ہم نے غفلت اور غیر مہ داری کا مظاہرہ کیا تو تاریخ ہمیں کھبی معاف نہیں کرے گی۔ سیاسی اکابرین نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح ہم آج یہاں ایک قومی ایشو مردم پر اکٹھے ہوگئے ہیں دیگر مسائل جن میں تعلیم، صحت اور امن وامان اتحاد ویکجہتی کے لیے بھی اکٹھے ہوکر چلیں اگر ہم نے اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو ہمیں کوئی بھی انتشار اور پسماندگی کی طرف نہیں لے جاسکتا انہوں نے کہا کہ مردم کے عمل کو ایک چیلنج سمجھ کر معاشرے کے تمام نوٹ ایبل اور اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو اب ہمیں نہیں دہرانا آپس میں رابطوں کو بڑھانا ہے اور مردم شماری کو اب آسان نہیں لینا ہے بلکہ گھر گھر جاکر اس پر اپنے لوگوں کو انکی ذمہ داریوں سے باخبر رکھنا ہے تاکہ جو نقصان ہم پہلے اٹھاچکے ہیں دوبارہ اسکا اعادہ نہ کریں انہوں نے کہا کہ معاشرہ اس وقت ایک بہتر سمت پکڑ سکتا ہے جب اسکے اصل اسٹیک ہولڈرز ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی قوت پیدا کریں گے اور صبروتحمل اور شعوری بنیادوں پر اپنے پروگرامز کو لیکر چلیں گے انہوں نے کہا کہ وسائل کی تقسیم کا فارمولا ہماری پسماندگی کا سبب ہے اور یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے، بلوچ کو بروہی، بلوچ اور دیگر زبانوں میں تقسیم کرنے کی بھی سازش ہورہی ہے تاکہ ہماری آبادی مزید کم ہوجائے، پنجاب سندھ میں آباد بلوچ کو یہ حق نہیں دیا جارہا کہ وہ اپنا اندراج زبان اور قومیت کی بنیاد پر کرائے، سندھ میں رہنے والا بلوچ سندھی شمار ہورہا ہے، اسی طرح پنجاب میں بلوچ کو سرائیکی کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری پر مامور عملہ کا کردار اہم ہے وہ ایک قومی جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں یہ ایک سیٹ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک ایشو ہے اگر اس میں ہم اپنی اصل آبادی کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے تو مستقبل میں ہمارے لیے مزید مسائل کھڑے ہونگے اتفاق برداشت کرنے میں ہماری نسل نو کی بقا وابستہ ہے، پارٹیاں آج ہیں کل نہیں بلوچستان کو باقی رہنا ہے ہمارے وجود کو خطرات لاحق ہیں ہمارے وسائل کو اغیار لوٹ کر لے جارہے ہیں بلوچ نے اگر اب بھی اپنے قومی ذمہ داریوں سے غافل رہا تو اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ کی تقسیم کے ذمہ دار ہم خود ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری جماعتوں کو قومی احساس کو لیکر چلنا ہے دانشور طبقہ اور تعلیم یافتہ طبقہ غفلت میں پڑے ہیں کاش کہ ہم بے تعلیم ہوتے کم ازکم روایتوں کو زندہ رکھنے کے قابل تو ہوتے ہمارے نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ زہنی غلام بن چکا ہے قومی شعور ہمیں مسائل اور مشکلات اور چیلنجز سے نجات دلاسکتا ہے۔


