محکمہ خوراک بلوچستان کی اقربا پروری، لسبیلہ اور حب کے شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پرمجبور

حب (نمائندہ انتخاب) فوڈ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی اقرباءپروری پنجاب سے منگوائی گئی2لاکھ گندم کی بوریاں کوئٹہ اور پشین تک محدود لسبیلہ اور حب محروم شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہو گئے اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں صوبے میں گندم بحران کے بعد پنجاب سے منگوئی گئیں گندم کی 2لاکھ بوریاں کوئٹہ اور پشین کے فوڈ گوداموں میں رکھنے اور شمالی بلوچستان کے فلور ملز میں ان بوریوں کی تقسیم سمیت خضدار کو بھی صرف 4000بوری گندم دی گئی لیکن حب اور لسبیلہ ڈسٹرکٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا جسکے باعث حب میں قائم واحد فلور مل جو کہ حب لسبیلہ آواران تک آٹا سپلائی کرتا ہے وہ گندم کا کوٹہ نہ ملنے کی وجہ سے پچھلے کئی ماہ سے بند پڑا ہواہے جسکی وجہ سے مقامی سطح پر آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے آٹے کے بحران کی وجہ سے دکاندار کراچی سے جوآٹا لے آرہے ہیں وہ پہلے ہی مہنگا ہونے اور پھر مقامی دکانداروں کی منافع خوری کی وجہ سے مزید مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے بتایا جاتا ہے کہ حب اور لسبیلہ ڈسٹرکٹ کا سالانہ کوٹہ جوکہ 1999ءکی مردم شماری 6لاکھ نفوذ کے تحت ماہوار کوٹہ14ہزار 7سے60بوری گندم ہے وہ بھی نہیں مل رہا اس بارے میں فلور مالک نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انھوں نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سمیت مقامی انتظامیہ سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں