دکی اے ایس آئی قتل ‘ جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک

دکی(نامہ نگار)مشرقی بائی پاس کے مقام پر لائیو اسٹاک ہسپتال کے عقب میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی گشت پر معمور گاڑی پر فائرنگ کرکے اے ایس آئی کو قتل کردیا۔جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ اور ہلاک ایک زخمی ہوگیا ہے۔ایس پی دکی سید صبور آغا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سموار کو اعلی الصبح 4.30 بجے ڈیوٹی آفسیر محمد سلیم پولیس پارٹی کے ہمراہ گشت پر تھے۔کہ مشکوک گاڑی کو پولیس پارٹی نے روکنے کا اشارہ کیا۔جس پر گاڑی میں سوار مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔حملہ آوروں کی فائرنگ سے ڈیوٹی آفسیر اے ایس آئی محمد سلیم ولد ولایت شاہ موقع پر جانبحق ہوگئے۔۔جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دو حملہ اور زخمی ہوگئے۔حملہ اور گاڑی میں موجود 14 عدد سولر شمسی پلیٹ اور ایک عدد کلاشنکوف موقع پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ڈاکٹروں کے مطابق شہید اے ایس آئی کو پانچ گولیاں لگی ہیں۔شہید اے ایس آئی کا تعلق سوات کے علاقے صوابی سے ہے۔تاہم بعد ازاں حملہ آوروں کی گاڑی لورالائی کے قریب ملک سلیم باغ کے مقام پر الٹ گئی۔مسلح افراد گاڑی چھوڑ کر قلعہ سیف اللہ فرار ہوگئے۔جہاں ایک حملہ اورمحمد ہاشم ولد سید محمد قوم کھیتران ساکن بارکھان حال قلعہ سیف اللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ایس پی سید صبور آغا کے مطابق حملہ اور بظاہر چور معلوم ہوتے ہیں۔جوکہ دکی سے شمسی سولر پلیٹ چوری کرکے قلعہ سیف اللہ لے جارہے تھے۔پولیس نے حملہ اور کی لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال قلعہ سیف اللہ سے قبضے میں لیکر ڈی ایچ کیو ہسپتال دکی منتقل کرکے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی۔ایس پی دکی سید صبور آغا کے مطابق پولیس دیگر حملہ آوروں کی تلاش میں سرگرم عمل ہیں۔حملہ اوروں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے محمد سلیم کی نماز جنازہ دکی اور لورالائی میں ادا کردی گئی۔نماز جنازہ میں ڈی آئی جی لورالائی ملک سلیم لہڑی،ایس پی دکی سید صبور آغا سمیت دیگر قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماو¿ں نے شرکت کی۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید اے ایس آئی کی لاش آبائی علاقے روانہ کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں