نئی دہلی، بابری مسجد منہدم کیس کا فیصلہ سنانے والے 4 جج مختلف ریاستوں کے گورنر مقرر

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی حکومت نے بابری مسجد منہدم کیس کا فیصلہ سنانے والے4ججز پر نوازشات کی بارش کردی،بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا حکومت اور بھارتی عدلیہ کے درمیان گٹھ جوڑ کی اس وقت ایک بارپھر تصدیق ہوگئی جب صدر دروپدی مرمو نے بابری مسجد کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایس عبدالنذیر جو 2019کے ایودھیا کے متنازع فیصلے کا حصہ تھا،اور بی جے پی کے چار رہنماﺅں کومختلف بھارتی ریاستوں کے گورنر کے طور پرمقررکردیا۔ جسٹس نذیر ایودھیا فیصلے سے منسلک سپریم کورٹ کے تیسرے جج ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد عہدہ سنبھالا۔سابق بھارتی چیف جسٹس،جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ جسٹس اشوک بھوشن کو نیشنل کمپنی لا اپیلٹ ٹریبونل کا چیئرپرسن نامزد کیا گیا تھا۔جسٹس ایس عبدالنذیر آندھرا پردیش کے گورنر ہوں گے۔جسٹس نذیر جو4جنوری کو ریٹائر ہوئے تھے، عدالت عظمیٰ کے آئینی بنچوں کا حصہ رہے ہیں جنہوں نے ہندوتوا نظریے کی حمایت کرتے ہوئے2019کے ایودھیا فیصلے اور 2017 کے تین طلاق فیصلے سمیت کئی متنازعہ فیصلے سنائے ہیں۔رواں سال 2جنوری کو جسٹس نذیر کی سربراہی میں پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے فیصلہ دیا کہ 8نومبر 2016کو حکومت کے 1000اور 500روپے کے کرنسی نوٹوں کے خاتمے کا فیصلہ غیر قانونی نہیں تھا۔کانگریس نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی گورنر کے طور پر تقرری پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس نے نذیر کی تقرری پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں