میئر خضدار کے انتخابی نتائج کیخلاف پٹیشن، الیکشن کمشنر نے نتائج روک دیے

خضدار :الیکشن کمیشن آف پاکستان نے میئر خضدار کے نتائج روک دیئے۔ واضع رہے کہ مئیر خضدار کے لیئے 9 فروری کو جو انتخابات ہوئے ان میں نیشنل پارٹی کے میر عبدالرحیم کرد اور پی پی پی کے آصف جمالدینی جبکہ ڈپٹی میئر کے لیئے جمعیت علما اسلام کے مولوی عنایت اللہ اور پی پی کے جمیل امیدوار تھے۔ ریٹرننگ آفیسر نے میئر کے لیئے نیشنل پارٹی کے امیدوار عبدالرحیم کرد کے 35 میں سے 21 اور ڈپٹی میئر کے لیئے مولوی عنایت اللہ کے 36 میں سے 21 ووٹ غیر صیح قرار دیا تھا جس کے خلاف عبدالرحیم کرد اور مولوی عنایت اللہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رٹ پٹیشن دائر کی جو منظور ہوئی اور اس کا باقاعدہ سماعت ہوا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فاضل بنچ میں سندہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ممبران شامل تھے جبکہ نیشنل پارٹی کے امیدوار میر عبدالرحیم کرد اور جمعیت علمااسلام کے امیدوار مولوی عنایت اللہ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر وکیل غلام محی الدین ساسولی ایڈوکیٹ اور نجم الدین مینگل ایڈوکیٹ نے پیش ہوکر دلائل دیئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مئیر اور ڈپٹی میئر خضدار کے نتائج روک کر درخواست باقاعدہ سماعت کے لیئے منظور کرکے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔ مزید سماعت کی تاریخ یکم مارچ مقرر کردی گئی ہے۔ دریں اثنا نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضع کیا ہیکہ امیدواروں کے پچھتر فیصد ووٹ غیر تصیح قرار دینا مشکوک اور معنی خیز عمل تھا جس کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نتائج روک دیئے ہیں جو حق اور سچ کی فتح ہے اور امید کرتے ہیں کہ فتح حق اور سچ کی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں