جرمنی کے تعاون سے پسنی فش ہاربر کی عدم ڈریجنگ سے مقامی ماہی گیروں کو مشکلات

گوادر : پسنی، جرمن حکومت کی تعاون سے 56 کروڑ کی لاگت سے بننے والی فش ہاربر جیٹی کی عدم ڈریجنگ سے علاقے کی معیشت بری طرح متاثر، مقامی ماہی گیروں کو سخت مشکلات کا سامنا ، جاپانی حکومت کی خصوصی گرانٹ جاری ہونے کے کئی سال بعد بھی جیٹی بحالی خواب بن گیا۔تفصیلات کے مطابق ساحلی شہر پسنی میں جرمن حکومت کی تعاون سے مقامی ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لئے 1989 میں 56 کروڑ کی خطیر رقم سے پسنی فش ہاربر جیٹی مکمل کی گئی تھی، مگر طویل عرصے سے جیٹی کی عدم ڈریجنگ اور صفائی نہ ہونے سے جیٹی منوں مٹی میں دھنستی گئی، اب مکمل پلے گراونڈ کا منظر پیش کررہا ہے۔نواب اسلم خان رئیسانی کے دور حکومت میں جاپانی حکومت کی جانب پسنی فش ہاربر جیٹی بحالی اور علاقے کی معاشی حب کی دوبارہ رونقیں بالا کرنے کے لئے 80 کروڑ روپے کا خصوصی گرانٹ دیا گیا لیکن آج کئی سال گزر گئے مگر مقامی ماہی گیر جیٹی بحالی کے منتظر ہیں۔واضح رہے کہ مقامی ماہی گیروں نے کئی دفعہ اس اہم مسلے پر احتجاج بھی کیا ہے لیکن حکومتی ادارے ٹھس سے مس نہیں ہوتے۔مقامی لوگوں کے مطابق اس منافع بخش جیٹی اور فش ہاربر کی عدم بحالی سے علاقے کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ بیروزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں