سیندک پروجیکٹ میں پاکستانی افسران اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں، نیشنل پارٹی
دالبندین (آن لائن) نیشنل پارٹی ضلع چاغی کے پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ سیندک پروجیکٹ میں پاکستانی مینجمنٹ کے کچھ افیسران اپنے کرپشن کوجاری رکھنے کے لئے غریب ملازمین پربے جاپابندیاں لگاکر فنڈز نکالنے کے حربے استعمال کررہے ہیں بیان میں کہاگیاکہ کورونا کے نام پر پاکستانی ملازمین کو تین سال تک کمروں تک محدود کرکے انہیں غلام بنایا گیا 2022 کے آخرمیں چائنا گورنمنٹ کی جانب سے کورونا کے خاتمہ کے اعلان کے بعد سیندک پروجیکٹ کے ملازمین کوآزادی ملی کہ وہ آزادانہ کہیں بھی جاسکتے ہیں مگر اب 2023 کے شروع ہوتے ہی پروجیکٹ میں پاکستانی آفیسر جمیل لانگو اور چائنیزسعیدنامی نے ملازمین کو کیمپ میں بندکرنے کااعلان کیاہے اور ملازمین کوکیمپ سے باہرنکلنے پر پابندی لگادی گئی ہے جوکہ غیرانسانی اورلیبرقوانین کے بدترین خلاف ورزی ہے دوسری جانب سیندک کے مقامی بلوچ بیروزگارنوجوانوں کو کئی سال سے بھرتی کرنے پرپابندی لگادی گئی ہے پاکستانی افسران صوبہ سے باہر اپنے لوگوں کوکمیشن کے عوض بغیرکسی انٹریوٹیسٹ کے بھرتی کرارہے ہیں سیندک کے مقامی نوجوان خودکشی پر مجبورہورہے ہیں بیان میں مزید کہاگیاکہ پروجیکٹ پاکستانی آفیسران چائنیز مینجمنٹ کے ساتھ ملکر اربوں روپے کی کرپشن میں مصروف عمل ہیں ملازمین کے مراعات میں کٹوتی کمپنی سے سامان کے چوری کوروناکے نام پرکروڑوں روپے کے فنڈزمیں آفیسران نے کرپشن کے ریکارڈ توڑدیے ہیں بیان میں مزید کہاگیا کہ سیندک پروجیکٹ کے ملازمین اور سیندک کے مقامی بیروزگاروں کو نیشنل پارٹی مکمل سپورٹ کریگی انکے ساتھ ملکر احتجاج اور قانونی معاونت دینے کی یقین دہانی کرتے ہیں۔


