بلوچستان کے طاقتور وزراءاعلیٰ نے عوام اور صوبے کی بہتری کیلئے کچھ نہیں کیا، اسد بلوچ
کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑے طاقتور وزرائے اعلیٰ گزرے ہیں لیکن انہوں نے عوام اور صوبے کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کیا اگر ہماری جماعت کو 2 مدت کے لئے وقت دیا جائے تو ہم بلوچستان کا بہتر چہرہ بناکر دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں قلم ، علم اور شعور کو اجاگر کرکے معاملات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے میں دن میں بولتا ہوں اور ہر فورم پر وہی موقف اختیار کرتا ہوں اور جمہوریت کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت کے قومی کونسل سیشن کے شرکاءسے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر الٰہی بخش بلوچ، ڈاکٹر عبید مری، ڈاکٹر یاسر شاہوانی، میر عبدالوکیل مینگل، حاجی علی نواز لہڑی ، ممتاز اختر اور فاطمہ مینگل ، ایوب بادینی سمیت دیگر بھی موجود تھے میر اسد بلوچ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن کردار ادا کیا ہے اور کرتے رہیں گے جو بھی ہمارے بس میں ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور میں نے ہمیشہ اپنے رب سے مدد اور تعاون طلب کیا ہے اور اسی کی مدد ، رضا کے ذریعے اپنے لوگوں کی مشکلات کو حل کروں گا ہم نے اپنے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ متحد ہوکر اپنے حالات کو بہتر بناسکےں۔ گوادر میں جس طرح مچھلیوں کی شکار کے نام پر نسل کشی کی جاتی ہے اور ایک غریب اس دھرتی کا وارث اور وسائل کا مالک صبح ہوٹل سے اپنے لئے ایک تھیلی میں چائے لاتا ہے اس طرح کی نا برابری اور تفریق کو میں تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے حقوق برابر مقرر کئے ہیں اور اسلام میں ہی تفریق کا کوئی عنصر موجود نہیں اور میں استحصال اور نا برابری کا سوچ بھی نہیں سکتا جس طرح ہمارے لوگوں کا استحصال کرتے ہوئے انہیں نا برابری کے حوالے سے وسائل دیئے جاتے ہیں یہ طریقہ کار درست نہیں ہم نے اپنے لوگوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے وسائل کو برابری اور انصاف کی بنیاد پر بروئے کار لانا ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو بی این پی (عوامی) نے ہمیشہ اپنے لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرکے ان کے حل کے لئے کردار اد اکیا ہے اور ہمارے پاس صلاحیت موجو دہے اس کےلئے ہمیں ایک جامع اور مربوط پالیسی بناکر اس پر عمل پیرا ہوکر آگے بڑھنا ہے بلوچستان میں بہت سے طاقتور سے طاقتور وزراءاعلیٰ گزرے ہیں لیکن وہ بلوچستان کی حالت اور عوام کی صورتحال کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیںہوئے ہم نے ایوان سمیت ہر فورم پر اپنی آواز اٹھائی ہے اگر ہماری جماعت کو بلوچستان کی حالت زار کو بدلنے کے لئے 2 حکومتی مدت دی جائیں تو ہم بلوچستان میں بہترین چہرہ بناکر دنیا کے سامنے آشکار کرسکتے ہیں ہم میں صلاحیت موجود ہے لیکن ہمیں موقع نہیں دیا جاتا بی این پی کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ اس کے تنظیمی اداروں میں تمام شعبے موجود ہیں اور انہی کے توسط سے ہر شعبے کی بہتری اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے کام کرتے ہیں ہم نے وقت ضائع کئے بغیر عوام کی خدمت کی ہے اور کرتے رہیں گے میں بہت جلد بلوچستان کا دورہ کروں گا تاکہ اپنے لوگوں میں شعور اجاگر کیا جاسکے ہم نے قلم، علم سے لوگوں میں اپنے فلسفے کا پرچار کرنا ہے اور اپنی جدوجہد کے ذریعے حقوق کے حصول کو یقینی بنانا ہے ہم نے تمام طبقوں کی بہتری کے لئے کام کرنا ہے۔ جو بھی اپنے حق اور حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے غدار کا لقب دیا جاتا ہے یہ روش تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اب ایسی پالیسی نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے غیور عوام اپنے حقوق کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لےں تاکہ صوبے کی صحیح آبادی کا تعین ہوسکے اور آبادی کے تناسب سے ہمیں روزگار اور وسائل میسر آسکیں۔ اور مردم شماری میں افغان مہاجرین کو دور رکھنا چاہئے تاکہ ہماری حقیقی آبادی کے تناسب میں فرق ڈال کر بلوچ کو اقلیت میں تبدیل نہ کیاجاسکے۔ انہوں نے بی ایس او کے صنعت کاروں ، کسانوں ، ڈاکٹرز ، دانشوروں اور خواتین کو دعوت دی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ آئے اور ہماری جماعت کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے حقوق کے حصول میں اپنا حصہ ڈالیں۔


