یوریا کھاد کی بیرون ملک اسمگلنگ، اوتھل میں دکانداروں نے نرخ بڑھا دیے، کسان کی قوت خرید متاثر
اوتھل (آن لائن) اوتھل میں یوریا کی قیمتیں قابو سے باہر ، دوکانداروں نے سرکاری ریٹ کو نظر انداز کرکے خودساختہ مہنگائی کرتے ہوئے یوریا کے ریٹ بڑھا دیئے ، کسان کی قوت خرید جواب دے گئی ، فصلات تباہی کے دہانے پر ہیں علاقائی سطح پر معاشی بحران کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے ، حکام اعلیٰ سے توجہ کی اپیل، تفصیلات کے مطابق اوتھل میں یوریا لے نرخ نامہ کو نظر انداز کرتے ہوئے دوکانداروں نے یوریا کھاد کی قیمتوں میں من مانے اضافے کردیئے ہیں جس کے باعث کسان شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں ، اس حوالے سے مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ یوریا کھاد کی قیمتوں میں من مانہ اضافہ کسانوں کے لئے بڑا چیلنج ہے اور سرکاری سطح پر دوکانداروں کی مانیٹرنگ نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اس وقت اوتھل کے زمینداروں کو یوریا مہنگے داموں میں فروخت کی جارہی ہے سرکاری ریٹ 2200 روپے ہے جبکہ دوکانداران اپنی من مانی سے 3500 تا 4000 میں فروخت کررہے ہیں لیکن محکمہ زراعت خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کسی بھی زمیندار کے لئے اتنا ہی ضروری بن چکا ہے جتنا ایک فصل کے بیج کو بونا ضروری ہے تو اس صورتحال میں کھاد کی خریداری زراعت کے شعبے میں معنیٰ رکھتی ہے جو ہر چھوٹے بڑے پیمانے پر کاشت کاری کرنے والے کسان کے لئے ضروری ہے ، لیکن بدقسمتی سے محکمہ زراعت کی جانب سے عدم توجہی کے باعث کسانوں کو دوکاندار من مانے ریٹ پر یوریا کھاد فروخت کر رہے ہیں جس سے فصل کی کاشت پر اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہے اور چند ماہ قبل ہی سیلاب سے متاثر ہو کر اپنی قیمتی فصلات اور زرعی اراضی سے محروم ہونے والے کسان اس بار اس چیلنج کا سامنا کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں اور ان کی قوت خرید جواب دے چکی ہے انہوں نے کہا کہ ہم سیکریٹری زراعت حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں ہنگامی بنیادوں پر لسبیلہ میں یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور اس کے لئے اقدامات کئے جائیں بصورت دیگر لسبیلہ کے کسان احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے اور احتجاج میں لسبیلہ کے راستے سے یوریا کھاد کی ترسیل کو بھی احتجاجاً بند کرنے کا لائحہ عمل طے کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے جس کی پوری ذمہ داری حکومت بلوچستان اور محکمہ زراعت کی ہوگی ۔


