بلوچوں کو ذہنی اذیت دینے کیلئے بلوچستان میں روز نئے سانحات برپا کیے جاتے ہیں، بی این پی

خضدار :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن و سابق ممبر قومی اسمبلی میر عبدالرﺅف مینگل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے تواتر کے ساتھ بلوچ چادر وچاردیواری کی تقدس کو پامال کیا جارہاہے،بلوچ روایات کے منافی عمل،بے گنا ہ شہریوں کی جبری گمشدگی وانسانی حقوق کی پامالیوں کے نتائج سنگین ہونگے۔عرصہ دراز سے بلوچستان میں اضطراب و سراسیمگی کے ماحول کو قائم کرنے کیلئے بے گناہوں کوگھروں،سڑک و تعلیمی داروں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جارہاہے،طاقت کے زور پر مائنڈ سیٹ کی تبدیلی و حقوق سے دستبرداری کا کھیل سنگین رخ اختیار کرچکاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کہ 2003ءسے جبری گمشدگیوں کا عمل اپنی شدت کو پہنچ چکا ہے،ہزاروں کے تعداد میں بلوچ نوجوان زندانوں میں مقید ہیں۔اس طرح ریاستی منفی ہتھکنڈوں کی وجہ سے حالات کے سدھار میں رکاوٹ اور نفرت میں تیزی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بلوچ مردوں کو لاپتہ کیا جاتا تھا اور آج کل اندھیری شب میں بلوچی روایت کو پامال کرکے بلوچ خواتین کو تشدد کا نشانہ بناکر لاپتہ کیا جارہا ہے،چادر و چار دیواری کی تقدس کی پامالی و خواتین کی جبری گمشدگی کے سنگین نتائج برآمد ہونگے گزشتہ دو ہفتے پہلے کوئٹہ سے رشیدہ زہری کو لاپتہ کی گئی اور اب ماحل بلوچ کی غیر آئینی گمشدگی اور پھر جھوٹی ایف آئی آر بنانا ریڈ لائن کو کراس کرنے کے مترادف ہے،بلوچ خواتین کی گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ماحل بلوچ کی فی الفور رہائی و دیگر جبری گمشدہ سیاسی اسیران کو بازیاب کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں نفسیاتی جنگ کے طورپر روز نئے سانحات برپاکئے جاتے ہیں تاکہ بلوچ سماج کو ذہنی و تخیلاتی بنیاد پر اپاہج بنایا جائے،ہراول سانحہ کی ڈمپنگ کیلئے دوسرے کو جنم دیا جاتا ہے، پہلے حفیظ بلوچ کی بازیابی وتشدد کو ڈمپ کرنے کیلئے رحیم زہری اور انکی شریک حیات کو لاپتہ گیا، اس واقعہ کی ڈمپنگ کیلئے ماحل بلوچ کو لاپتہ گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں