پارلیمنٹ کی عزت، آبرو و توقیر پارلیمنٹرینز کا بنیادی فرض ہے،خواجہ محمد آصف
اسلام آباد:وزریر دفاع و پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنماءخواجہ آصف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی عزت، آبرو اور توقیر پارلیمنٹرینز کا بنیادی فرض ہے،تاریخ گواہ ہے جب ہمیں اپنی مرضی کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں تو ہم عدلیہ سے اس کا اقتدار ادھار لیتے ہیں، تاکہ ہمارا اقتدار بچ جائے ،جیل بھرو تحریک کی ناکامی میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، لوگ خود نہیں آئے، ہم نے دو ڈھائی سال جیلیں بھگتی ہیں، ان کی بیویاں بیٹے دو دو دن بعد ضمانت کیلئے عدالت پہنچ گئے ہیںیہ چوبیس گھنٹے بعد بھاں بھاں کرکے رونا شروع کردیتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا بہت بڑا بحران تھا،نواز شریف نے اپنا اقتدار قربان کردیا مگر سمجھوتے نہیں کئے،بی بی کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی حالات کو کسی اور جانب لے جاسکتی تھی مگر انہوں نے جمہوریت کو ترجیح دی،افغانستان میں امن کے خواہشمند ہیں،انہیں کہا ہے ہمارے اور آپ کے تعلقات میں کوئی گند گھول رہا ہے یہ نہیں ہونا چاہیے، اگر ہم نے یکطرفہ کارروائی کی تو آپ کو برا لگ سکتا ہے۔۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے جب ہمیں اپنی مرضی کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں تو ہم عدلیہ سے اس کا اقتدار ادھار لیتے ہیں، تاکہ ہمارا اقتدار بچ جائے اور جو غیرقانونی کام ہم نے کئے ہیں انہیں سپورٹ مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کام فوجی آمروں نے بھی کئے ہیں، انہیں بھی تحفظ ملا، اسی طرح سویلینز نے بھی کئے اور انہیں بھی پروٹیکشن ملی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اہم خلاف ورزیاں آمروں نے عدلیہ سے کروائیں اور آئین کو پامال کروایا۔دو صوبوں کی اسمبلی تحلیل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور پشاور میں جو اقدامات اٹھائے گئے وہ ایک شخص کی اقتدار سے اندھی محبت اور اقتدار چھن جانے کے بعد اس کی ذہنی کیفیت کا مظہر ہے، نہ اس کی جماعت راضی تھی نہ اس کے اتحادی راضی تھے، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے تلخ تجربات کی وجہ سے الیکشنز کو ایک دن رکھا گیا ہے، آئین کو جس ایک جگہ پر لاک کیا گیا اس کا ایک تاریخی پس منظر تھا، اس کو بھی پامال کردیا گیا، اب جو الیکشن ہوں گے اس سے بحران کا تسلسل جاری رہے گا۔ ارکان اسمبلی ملک کو اس بحران سے بچا سکتے ہیں۔عمران خان کی جیل بھرو تحریک پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیل بھرو تحریک اگر دو دن میں ناکام ہوگئی تو اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، لوگ خود نہیں آئے، آئے تو فوٹو کھچوا کر گھر چلے گئے۔الیکشنز کی تاریخ پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا ایک رول ہے، صدر صاحب کو تو کوئی رول ہی نہیں ، وہ تو تجاوز کر رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا ایک بہت بڑا بحران تھا، اس کے بعد بینظیر بھٹو شہید ہوگئیں، آج تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، پانامہ کیس میں ہمارے پاس چوائسز موجود تھیں ہم اس کو لپیٹ سکتے تھے، نواز شریف نے اپنا اقتدار قربان کردیا لیکن وہ چوائسز نہیں لیں سمجھوتے نہیں کئے۔انہوں نے کہا کہ بی بی کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی حالات کو کسی اور جانب لے جاسکتی تھی لیکن انہوں نے جمہوریت کو ترجیح دی، لیکن یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ آپ جس زبان سے باجوہ کو تاحیات توسیع کی آفر کرتے ہیں اسی سے اسے گالی دیتے ہیں یہ کیا شخص ہے؟۔انہوں نے پی ٹی آئی رہنماﺅں کی گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دو ڈھائی سال جیلیں بھگتی ہوئی ہیں، ان کی بیویاں بیٹے دو دو دن بعد ضمانت کیلئے عدالت پہنچ گئے، کوئی اپنی سیاست کا تو بھرم رکھو، کوئی تو اپنا بھرم رکھو، چوبیس گھنٹے بعد بھاں بھاں کرکے رونا شروع کردیتے ہیں۔پانچ کے ٹولے سے جنرل (ر)باجوہ کا نام نکالے جانے کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ 2018کی واردات میں اسٹیبلشمنٹ کا رول بڑا کلیئر ہے، اس وقت جنرل باجوہ اسٹبلشمنٹ چلا رہے تھے، انہوں نے جاوید چوہدری کے ساتھ گفتگو میں بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ اگر کہا جائے کہ 2018میں آنےوالوں کی ذمہ داری اسٹبلشمنٹ کی قیادت پر عائد ہوتی ہے تو غلط نہ ہوگا، اس اعتراف کی وجہ سے عمران خان انہیں گالیاں بھی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جن لوگوں کے خلاف کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا تھا اب وہ متنازع بنے ہوئے ہیں ایکسپوز ہورہے ہیں۔ ہر واردات میں بیورو کریسی شامل رہی ہے لیکن اس کا کبھی احتساب نہیں ہوا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مہنگائی کی وجہ سے ہمیں سیاسی نقصان پہنچا ہے، ہم نے ان کے کئے گئے آئی ایم ایف معاہدے کو نبھانے کی کوشش کی ہے، ہماری ایک سال کی کوششوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کا پروگرام بحال ہوا ہے، ورنہ آئی ایم ایف اور دوست ممالک ہماری مدد کے لیے تیار نہیں تھے، ہم اگر اسی وقت الیکشن کروالیتے تو سیاسی طور پر بہت اچھا فیصلہ تھا، ہم نے یہ فیصلہ کربھی لیا تھا اور میں اس کے حق میں بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایف بی آر ہمارے نقصان کو پورا کرسکتا ہے، آپ صرف ہونے والے نقصان کو روک لیں اور ٹیکس کا نظام ٹھیک کرلیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سیکیورٹی میٹنگز میں انٹیلی جنس چیف جنرل فیض اور جنرل باجوہ نے معاہدے کے حوالے سے ہمیں بریف کیا اور اس ارینجمنٹ کے تحت یہاں پر لوگ لائے گئے۔ لیکن وہ چیز ناکام ہوگئی، جو لوگ لائے گئے وہ امن سے نہ رہے، انہوں نے آخر وہی کارروائیاں شروع کردیں جو پہلے کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سب سے زیادہ امن کی خواہش افغانیوں کے علاوہ پاکستانیوں کو ہے، ہم نے ان کو کہا ہے کہ آپ ہماری مدد کریں، بین الاقوامی معاہدوں میں آپ نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف آپ اپنی زمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، ہمارے اور آپ کے تعلقات میں کوئی نہ کوئی گند گھول رہا ہے یہ نہیں ہونا چاہیے، اگر پاکستان یکطرفہ طور پر اس کا کوئی سدباب کرتا ہے تو آپ کو گلہ گزاری ہوسکتی ہے۔


