مالی بحران کا خاتمہ نہیں کیا گیا تو جامعہ بلوچستان بند ہوجائے گی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی
کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کا ایک اہم اجلاس زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ سمیت تینوں ایسوسی ایشنز کے کابینہ ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی کو درپیش مسلسل سخت مالی و انتظامی بحران، افسران اور ملازمین کی چھے سال سے زیر التواءپروموشنز و اپ گریڈیشن اور ٹائم اسکیل کی منظوری، ڈی ار اے کی بقایاجات کی ادائیگی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر انتظام مالی و انتظامی بحران کی مستقل حل اور بلوچستان ایکٹ 2022ءمیں اساتذہ کرام، افسران، ملازمین و ان کی ایسوسی ایشنز و طلباءوطالبات کی منتخب نمائندگی کےلئے گرینڈ ڈائیلاگ کے اعلامیے اور سفارشات پر عملدرآمد کے لیے غور وخوص ہوا۔ اجلاس میں سخت افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ ہر مہینے کی تنخواہ کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے اور مارچ کے مہینے میں بچوں کے سکول اخراجات اور رمضان المبارک کے مہینے کی آمد میں خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہیں لیکن مارچ کے 7 روز گزرنے کے باوجود تاحال تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہوئی اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ جامعہ بلوچستان کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کی بنیادی وجہ غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر ہے اور اس کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا اور اس ضمن میں جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں احتجاجی کیمپ بروز سوموار سے لگایا جائے گا اور جمعرات و جمعہ کے روز دن گیارہ بجے آرٹس بلاک سے احتجاجی مظاہرے شروع کئے جائیں گے۔اجلاس میں نئے گورنر بلوچستان کو مبارکباد پیش کیا اور جلد ہی ان سے ملاقات کرکے جامعہ بلوچستان پر غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی برطرفی کا مطالبہ کیا جائے گا اور مالی و انتظامی بحران کی مستقل خاتمے کیلئے ان کی مدد کا اپیل کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان، مرکزی حکومت اور ایچ ای سی کے چیئرمین سے پرزور مطالبہ کیا کہ جامعہ بلوچستان کو درپیش مالی بحران کی خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے بصورت دیگر جامعہ بلوچستان بند ہو جائے گی۔


