بلدیہ کوئٹہ میں جعلی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جانے کا الزام، تحقیقات کی جائے، سرکاری ٹھیکیداروں کا مطالبہ
کوئٹہ:کوئٹہ کے سرکاری ٹھیکیداروں میرگورام خان قمبرانی،میر عباس جتوئی نے کہا ہے کہ محکمہ بلدیات کے گزشتہ دنوں جاری کئے جانے والے ٹینڈروں میں سریاب کے منتخب عوامی نمائندے اور محکمے کے افسران کی ملی بھگت سے حقیقی ٹھیکیداروں کو نذر انداز کر کے منظور نظر ٹھیکیداروں کو ٹینڈر دیکر اقرباءپروری کا مظاہرہ کیا گیا ہے ہماری چیف سیکرٹری بلوچستان ،محکمہ اینٹی کرپشن ، نیب کے حکام سے اپیل ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں کیلئے دیئے جانے والے ٹینڈروں میں جعلی کمپنیوں کو نوازنے کا نوٹس لیکر حقدار ٹھیکیداروں کیساتھ ہونے والی زیادتی پر کارروائی کرتے ہوئے حقیقی لوگوں کو انصاف مہیا کریں بصورت دیگر ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے،میر گورام خان قمبرانی اور میر عباس جتوئی نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دنوں محکمہ بلدیات کے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز ہوئے جن میں دیگر کمپنیوں کی طرح ہماری کمپنی نے بھی حصہ لیا،لیکن افسران نے ملی بھگت کی ذریعے ہمارے ٹینڈر کو مسترد کرتے ہوئے منظور نظر ٹھیکیداروں کو ٹینڈر دیا جسکے خلاف ہم نے گروینس کمیٹی میں درخواست دینے کے باوجود ہماری درخواست کو پچھلی تاریخ میں مسترد کر دیا ، جسکے خلا ف ہم نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے تاحال اس ناروا اقدام کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جسکی وجہ سے کوئٹہ کے حقیقی ٹھیکیداروں کی حق تلفی ہو رہی ہے، ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ان غلط اقدامات کا نوٹس لیتے ہوئے جاری ہونے والے مذکورہ ٹینڈروں کو منسوخ کر کے شفافیت اور اوپن میرٹ کے ذریعے ٹینڈر کئے جائیں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوسکے۔


