خان محمد مری کے اہلخانہ سے پولیس نے زبردستی بیان دلوایا، صوبائی وزیر کو گرفتار کیا جائے، مری اتحاد

کوئٹہ، کراچی (آن لائن) آل پاکستان مری اتحاد کے مرکزی قائدین جس میں چیئرمین رئیس مہردین خان مری ،مرکزی وائس چیئرمین میر جان مری، نائب صدر مرید اور رئیس محب علی خان مری اور دیگر لوگوں اور سول سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کے لوگوں نے کراچی پریس کلب ایک پرامن احتجاج اور پریس کانفرنس کی جس میں یہ بتایا گیا کیا کہ صوبائی وزیر بلوچستان عبدالرحمن کھیتران نے خان محمد مری کے خاندان کو 6 سال تک قید میں رکھا قید کے دوران اس کے دو لڑکوں کو قتل کیا گیا یا جس کے خلاف سول سوسائٹی اور آل پاکستان مری اتحاد اور پورے ملک نے پرامن احتجاج کیا، لاشیں راکھ کر کوئٹہ میں اس کے بعد پولیس نے تمام مغوی افراد کوبازیاب کریا جس میں دو عورتیں اور5 بچے شامل ہیں کو اپنے قبضے میں رکھا اور ان سے پولیس اور حکومت بلوچستان نے اپنی مرضی کا بیان دلوایاپولیس نے اور حکومت بلوچستان نے جان بوجھ کر اپنے صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کو بچانے کے لئے یہ سارا ڈرامہ کیا جب ہمیں علم ہوا تو ہم نے اس سارے ڈرامے کے کے کو بے نقاب کرنے کے لئے بلوچستان ہائی کورٹ میں پولیس قبضے میں 10 دن تک رکھ کر عبدالرحمن کھیتران کے حق میں زبردست بیان دلوا رہا ہے اس کے خلاف Cp لگائی اور اس کے بعد مغویوں کو پولیس نے رہا کردیا، آج مغوی خود میڈیا کے سامنے یہ بیان دے رہے ہیں کہ پولیس نے ہم سے زبردستی عبدالرحمن کھیتران کے حق میں بیان دلوایا تاکہ عبدالرحمن کھیتران کوضمانت پر رہا کیاجائے ہم پرعبدالرحمن کھیتران مسلسل زیادتی کرتا رہا ہم ان کی قید میں تھے ہمارے اوپر جنسی زیادتی اور تشدد کیا گیا میرے بچوں کو میرے سامنے عبدالرحمن فون کیا اب آل پاکستان مری اتحاد نے ہڑتال کی ان کے بدلے میں ان دو نوجوانوں کو تشدد کر کے مار دیا پر ان لوگوں نے عبدالرحمن کھیتران کے کہنے غفور اور دیگر نے قتل کردیا ہماری مدد کریں یہ ظالم سردار اور بلوچستان کے صوبائی وزیر عبدلرحمان کھتران کو گرفتار کریں اور ہمیں انصاف دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں