زیتون کی کاشت بڑھانے سے بلوچستان میں معیشت مضبوط ہوگی، پاک آلیو پراجیکٹ

ژوب (آن لائن) زیتون کی کاشت کے حوالے سے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام، پی پی اے ایف اور بلوچستان ایگری کلچرل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کوئٹہ کے اشتراک سے پاک آلیو پراجیکٹ اور پروموشن آف آلیو کلٹیویشن آن کمرشل سکیل ان پاکستان منصوبے کے تحت زیتون کے زمینداروں کیلئے ایک روزہ تربیت کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ زمینداروں نے شرکت کی زمینداروں کو ندیم صادق ڈی جی ایگری کلچر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر، عبداللہ بلوچ، جاوید احمد سائنٹیفک آفیسر، رجب علی پراجیکٹ منیجر بی آر ایس پی، بازمیرخان ڈائریکٹر زراعت ژوب اور قطب خان ڈی پی ایم بی آر ایس پی نے زیتون کی کاشت، پیوندکاری، پروننگ، پلانٹیشن اور آبیاری کے بارے میں تربیت دی۔ انہوں نے کہا کہ ژوب کی آب و ہوا زیتون کی کاشت کیلئے نہایت مناسب ہے۔ زمینداروں میں پچاس ہزار مختلف ورائٹیز کے زیتون کے درخت تقسیم کیے جارہے ہیں، جو چار سال میں فصل دینا شروع کریں گے۔ ژوب میں زیتون کے قدرتی جنگلات موجود ہیں اور اس وقت زیتون کی مارکیٹ میں فی لیٹر قیمت پچیس سو روپے ہے۔ زیتون کی کاشت بڑھتی جارہی ہے، جس سے لوگوں کی معیشت مضبوط ہوگی۔ ٹرینرز نے کہا کہ زیتون ایک ماحول دوست درخت ہے جس میں کاربن کو استعمال کرنے، ہوا اور ماحول کو صاف کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ اس پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملے کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زرعی ادویات کے استعمال کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے جبکہ دیگر پھلوں کے مقابلے میں اس کو پانی کی بھی کم ہی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق زیتون کے ایک اچھے درخت سے 40سے 80کلو زیتون سالانہ حاصل کیا جاسکتا ہے ڈی پی ایم بی آر ایس پی قطب خان آفاقی نے کہا کہ بی آرایس پی کی جانب سے نیوشیخان ٹاون میں آلیو آئل پراسیسنگ یونٹ لگایا جاچکا ہے، جہاں فی گھنٹہ ڈھائی سو لیٹر نکالا جاسکتا ہے۔ دریں اثنا زمینداروں میں دس ورائیٹیز آربیوکینا، آربوسونا، باری ون، باری ٹو، جربوٹی، ایسکولینا، چیٹینا، گیملک، چملالی اور پکوال کے درخت تقسیم کئے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں