خضدار میں 5 سالہ بچی کی جبری شادی کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کا ازخود نوٹس

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی شرعی عدالت کے از خود نوٹس پر بلوچستان میں کم عمر کی شادی کو روکنے کیلئے مسودہ قانون تیار۔ اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے بلوچستان کے ضلع خضدار میں 5 سال کی بچی کی جبری شادی کے حوالے سے لیا گیا از خود نوٹس آج سماعت کیلئے مقرر کیا تھا، چیف جسٹس جناب جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ، جج پر مشتمل وفاقی شرعی عدالت کے بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران تمام وفاقی اکائیوں کی نمائندگی ان کے متعلقہ لا افسران نے کی صوبہ بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے ماہر قانون افسران نے رپورٹ پیش کی کہ انہوں نے بلوچستان امتناع کم سنی کی شادی ایکٹ 2021ءکے عنوان سے ایک بل تیار کیا ہے مجوزہ قانون کا مقصد صوبے میں بچوں کی شادی کو روکنا اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے جو کہ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس کے بعد تیار کیا گیا ہے، قانون کا مسودہ صوبائی حکومت نے صوبائی کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن اور صوبائی محکمہ سماجی بہبود بلوچستان کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کیا ہے، جو منظوری کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں