وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تمام شوگر ملز کے آڈٹ کا فیصلہ

اسلام آباد :وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے تمام شوگر ملز کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کابینہ کو غیر ضروری اخراجات ختم کرنے اور کفایت شعاری اپنانے کی ہدایت کی جبکہ تمام شوگر ملز کے آڈٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق 1985 سے اب تک تمام شوگر ملز کا آڈٹ کیا جائیگا اور بدعنوانی کے کیسز قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجے جائیں گے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مہنگائی پر اثر نہ پڑنے پر وزیراعظم نے اظہار ناراضی کیا اور مشیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی، عبدالحفیظ شیخ مہنگائی میں کمی کیلئے صوبوں سے مشاورت کریں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کو پہنچایاجائے، وزیراعظم نے چینی کی قیمت میں بھی کمی کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق کابینہ اراکین نے اجلاس میں گندم اسکینڈل کی رپورٹ کا فورنزک کرانے کا مطالبہ کیا۔ فواد چوہدری، فیصل واوڈا اور مرادسعید نے گندم اسکینڈل کے ذمہ داران کو سامنے لانے کامطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے احتساب کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی اور کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ معاشی ٹیم کی جانب سے بجٹ سے متعلق کابینہ کو بریفنگ بھی دی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کو اپنایا جائے اور غیر ضروری اخراجات ختم کیے جائیں۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے، اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی بجٹ21-2020ء سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔کابینہ کو پاکستان انٹر نیشنل ائیرلائنز ( پی آئی اے) طیارہ حادثے، تحقیقات اور میتوں کی شناخت کے عمل پر بریفنگ دی گئی،اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کو ملک بھر میں فصلوں پرٹڈی دل کے حملے کی صورتحال کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نیایشیائی ترقیاتی بینک کواسلام آباد میں دفتر تعمیر کرنے کی اجازت دینے سمیت فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈائریکٹرجنرل کی ڈیپوٹیشن پر تقرری کی منظوری دے دی ہے۔کابینہ اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورکارپوریشن کی ملازمت کو لازمی سروسز کا حصہ قرار دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں