پسنی جیٹی کی تباہ حالی، درجنوںفش اور آئس فیکٹریاں بند، سیکڑوں افراد بیروزگار

اورماڑہ (یو این اے) پسنی جیٹی زوال پذیر، علاقے کی معیشت روز بروز پستی کی طرف رواں دواں، درجنوں فش اور آئس فیکٹریاں بند ہوگئیں، سینکڑوں افراد بے روزگار، جاپان حکومت کے دئیے گئے گرانٹ کے پیسوں کو بروئے کار لانے میں غیر سنجیدگی تفصیلات کے مطابق ساحلی شہر پسنی کے بیشتر افراد کا ذریعہ معاش ماہیگیری کے شعبے سے منسلک ہے اور جب یہاں کی جیٹی فعال تھی تو ایک ادنی سا مزدور یومیہ پندرہ سے دو ہزار روپے کما کر خوشحال زندگی گزارتا تھا جبکہ پندرہ سال ہو گئے یہاں کی جیٹی منوں مٹی میں دھنس گئی ہے جس سے نہ صرف پسنی شہر بلکہ قرب و جوار کے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہو گیا ہے اور پسنی جیٹی پر موجود درجنوں فش اور آئس فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں جن میں کام کرنے والے سینکڑوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں دوسری طرف پسنی جیٹی کے لیے جاپان حکومت کی طرف سے دیئے گئے 80 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی تاحال جیٹی کی ڈریجنگ کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہو سکی ہے اور علاقے کی معیشت دن بدن پستی کی طرف رواں دواں ہے اور بےروزگاری کی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے واضح رہے کہ اگر جاپانی گرانٹ کے پیسوں کو بروئے کار لاکر منصوبہ بندی کے ساتھ جیٹی کی ڈریجنگ کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تو جس سے نہ صرف علاقے کے ماہی گیروں کو سہولیات میسر ہوں گے بلکہ علاقے کے لوگوں سمیت مکران اور بلوچستان کے لوگوں کے لیے بھی روزگار کے دروازے کھلیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں