مردم شماری کی یہی صورتحال رہی تو اسلام آباد میں بلوچستان کی نمائندگی تنزلی کا شکار ہوگی، اسرار اللہ زہری
خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیر میر اسرار اللہ خان زہری نے بلوچستان میں حالیہ مردم شماری میں سست روی اور اس کے ردعمل میں بلوچستان میں ہونے والے ممکنہ متوقع نقصانات پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مردم شماری کی یہی صورتحال رہی تو مستقبل میں بلوچستان کو سیاسی ,معاشی اور قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کمی کے نقصانات سے کوئی نہیں بچا سکے گاان خیالات کا بی این پی عوامی کے سربراہ نے خضدار کے صحافیوں سے گفتگوکے دوران کیا سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی آبادی منتشر ہے لوگوں کی ایک بڑی تعداد دوردراز مشکل گزارپہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں ان پہاڑی علاقوں میں آباد لوگوں کی مردم شماری سرے سے نہیں ہوئی ہے جبکہ شہری و دیہی علاقوں میں بھی مردم شماری کی صورتحال سست روی کا شکار ہیں ایک اندازے کے مطابق اب تک بلوچستان میں آدھے سے بھی زیادہ لوگ شمار نہیں ہوسکے ہیں، اسوقت خضدار کے شہر کے اندر مردم شماری مکمل نہیں ہوئی ہے، دوردراز کے علاقے ویسے ہی مردم شماری سے محرومیت کا شکار ہونگے اگر یہی صورتحال رہی تو بلوچستان کو شدید نقصان پہنچے گا ایک تو آبادی کم ہوگی دوسری ملکی وسائل جو آبادی کی بنیاد پر صوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں اس میں بھی بلوچستان کو مزید کم حصہ ملے گا ردعمل میں بلوچستان کی پسماندگی میں اضافہ ہو گا لوگوں کی معیار زندگی بہتر ہونے کے بجائے پستی کی جانب جائے گی اوراس کے علاوہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں پہلے سے ہی بہت کم ہیں ان میں مزید کمی آئے گی اور اسلام آباد میں بلوچستان کی نمائندگی تنزلی کا شکار ہوگابلوچستان اسمبلی میں بھی اضلاع کی نمائندگی میں فرق آئے گا ایسے نقصانات سے صوبے کو بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مردم شماری کی دورانیہ میں اضافہ کیا جائے اور شمارکنندگان کو وہ سفری سہولیات فراہم کی جائے جن کو بروئے کار لاکر وہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچ سکیں بی این پی عوامی کے سربراہ کا مزیدکہنا تھا کہ ہم نے شروع میں ہی بلوچستان میں مردم شماری کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا آج عملی طور پر وہ درست ثابت ہو رہے ہیں انہوں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ شماریات کا مردم شماری کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ماہ کی دورانیہ ختم ہو گیا ہے مزید ایک ہفتے رہ چکے ہیں تاحال شہر خضدار کے مختلف بلاکس میں مردم شماری مکمل نہیں کیا ہے خاک دیہی اور دوردراز پہاڑی علاقے کے بلاکس میں شماریات مکمل کریں گے جسکی ذمہ دار کس کو ٹھہراءجائے گا مگر شمارکنندگان کو سفری اخراجات ادا نہیں ہوئے اب جب سفری اخراجات شمارکنندگان کو نہیں ملے گی تو وہ اس معاشی صورتحال میں کیسے اپنی خرچے پر طویل فاصلے طے کرکے اپنے اپنے متعین کردہ بلاکس میں پہنچ جائیں گے اس لئے ہم وفاقی و صوبائی حکومتوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر صورتحال یہی رہی بلوچستان کی حقیقی آبادی کو کم ظاہر کی گئی پہاڑی و دشوار گزار علاقوں میں آباد لوگوں کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا تو مردم شماری کے نتائج کو بلوچستان کی حقیقی سیاسی جماعتیں قبول نہیں کریں گی اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت مردم شماری کے دورانیہ میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع کریں اور شمارکنندگان کو وسائل مہیاءکرکے تاکہ شمارکنندگان باقی رہ جانے والے علاقوں و لوگوں کو مردم شماری میں شامل کر سکیں صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت میں شامل جماعتیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں وفاق سے احتجاج کریں اور بلوچستان کے سیاسی سماجی و عوامی حلقوں کی خدشات سے نہ صرف انہیں آگاہ کریں بلکہ اس سے بلوچستان کو اس متوقع صورتحال میں جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہیں وہ بھی بتاکر بلوچستان کی حق نمائندگی ادا کریں۔


