بلوچستان میں گندم کی نقل و حمل پر پابندی سے متعدد فلور ملز بند، آٹے کا بحران کا خدشہ

کوئٹہ : بلوچستان میں ماہ صیام میں نصیر آباد اور جعفر آباد میں گندم کی نقل و حرکت پر دفعہ 144لگانے سے کوئٹہ، نوشکی، خضدار، سوراب، پشین، ژوب سمیت دیگر علاقوں میں فلور ملز بند پڑی ہیں اور عید سے قبل آٹے کا بحران پیدا ہوگا، حکومت اس کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان میں گندم کی نقل و حرکت پر عائد پابندی ختم کریں جبکہ صوبہ سندھ کو بغیر کسی روک ٹوک کے گندم جا رہی ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کی 28تاریخ کو بلوچستان کے علاقے نصیرآباد اور جعفر آباد میں گندم کی نقل و حرکت پر دفعہ144لگا کر پابندی لگائی گئی جس کی وجہ سے ان علاقوں سے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں کو گندم لانے کی اجازت نہیں دی جارہی اور آٹے کا شدید بحران پیدا ہو رہا ہے اس وقت آٹے کی بوری کی قیمت 15ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے، حکومت کو بلوچستان میں گندم کی نقل و حرکت پرلگائی جانے والی دفعہ 144کو ختم کیا جائے اور عید الفطر سے قبل صوبے میں گندم کے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پایا جا سکے ،بلوچستان میں گندم کی نقل و حرکت پر پابندی ہے جبکہ صوبہ سندھ کو بلوچستان سے بغیر کسی رکاوٹ کے گندم کی ترسیل جاری ہے ، اس کا نوٹس لیاجائے ہمارے صوبے میں اس بحران پر قابو پانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بلوچستان میں بند فلور ملز کو چلایا جا سکے اور صوبے میں آٹے کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں