گرلز ڈگری کالج چتکان پنجگور کلاس روسز، لیبارٹری، بسوں کی کمی سمیت بنیادی سہولیات سے محروم

پنجگور :گرلز ڈگری کالج چتکان پنجگور کے مسائل بڑھ رہے ہیں کالج میں بسوں اور کلاس رومز کی کمی لیبارٹریز میں سائنسی آلات اور پانی کی عدم موجودگی جیسے مسائل بچیوں کی ایجوکیشن کے آگے رکاوٹ بن رہی ہیں کیمسٹری فزکس اور بیالوجی لیبوں میں پانی کے نلکے کسی اجڑے ہوئے میوزیم کا منظر پیش کررہے بچیاں جدید سائنسی آلات اور سہولتوں کی عدم دستیابی پر پریکٹیکل کی سہولت سے محروم اور اسٹاف کے لیے رہائشی مکانات بھی عدم مرمت کی وجہ سے خستہ حال ہوچکے ہیں باہر کے اساتذہ رہائش کے لئے سرگردان ایک ہزار طالبات میں سے 800 کے قریب سائنسی علوم سے جڑی ہوئی ہیں مگر لیبارٹریز میں آلات اور دیگر سہولتوں کے فقدان سے انکا ایجوکیشن اور وقت ضائع ہورہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق پنجگور میں تعلیم نسوان تنزلی کی طرف گامزن ہے پنجگور میں 1993ءمیں خواتین کے لئے قائم ہونے والی سب بڑا تعلیمی ادارہ بھی مسائل کی گردآب میں جکڑ چکا ہے ڈگری کالج کا درجہ ملنے کے باوجود 10 سال بعد بھی اسکے مسائل جوں کے توں اپنی جگہ پر برقرار ہیں اور اسکو ابھی تک ایک انٹر کالج سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے ایک ہزار بچیوں کے لئے کالج کے پاس صرف تین پرانی بسیں اور ایک ڈرائیور موجود ہے جنکے منٹنس کے لئے پیسے اور فیول کی مد میں مناسب بجٹ بھی دستیاب نہیں اسکے علاوہ کالج کے لیبوں میں جدید سہولیات درکنار پانی بھی میسر نہیں ہے دس سال پہلے جو سائنسی آلات کالج کو مہیا کیئے گئے تھے ان سے کالج اسٹاف کام چلانے پر مجبور ہے کالج کی لائبریری میں بھی کتابوں کا فقدان ہے ٹیچرز کے لیے جو رہائشی کوارٹرز ہیں وہ بھی کئی سال سے عدم مرمت کی وجہ سے خستہ حال ہوچکے ہیں کالج میں ہمسایہ اضلاع کے جو 10 کے قریب لیکچراز کی پوسٹنگ ہوئی ہے انہیں رہائش کے لیے شدید دشواری کا سامنا ہے جس سے کالج میں تدریسی نظام کسی حد تک متاثرہوچکا ہے گرلز ڈگری کالج پنجگور کی اکثر طالبات پنجگور کے مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں کالج لانے اور لیجانے کے لئے بسوں کی کمی آڑے آرہی ہے تین بسوں اور ایک ڈرائیور کے ساتھ ان دوردراز علاقوں سے بچیوں کو ٹائم پر کالج لانا اور پھر واپس لیجانا باعث مشکلات ہے کالج کے پاس بسوں کی منٹس اور فیول کے لیے بھی مناسب بجٹ موجود نہیں ہے کالج انتظامیہ نے کالج میں تدریسی اسٹاف کی کمی کے پیش نظر نصف درجن کے قریب تدریسی اسٹاف ریمونیریشن پر رکھے ہیں انکو معاوضہ دینے میں بھی کالج کے پاس بجٹ نہیں ہے کالج میں 1000 ہزار بچیوں کے لئے صرف 4 کلاس رومز کی سہولت ہے اور تدریسی اسٹاف کی 18 آسامیاں خالی ہیں جن پر تاحال بھرتیاں نہیں ہوسکی ہیں زرائع کے مطابق کالج میں اے ڈی اور اے ڈی ایس کی کلاسوں کا بھی باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے 200 سے زائد داخلہ ہوچکی ہیں کلاس رومز اور مناسب تدریسی اسٹاف نہ ہونے کی وجہ سے کالج انتظامیہ مشکلات کا شکار ہوچکی ہے کالج کے اسٹاف کے لئے بھی ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے موجودہ سائنسی دور میں جہاں کالج میں جدید سائنسی آلات جس قدر لازمی ہوتے ہیں آئی ٹی لیب اور ڈیجیٹل لائبریری بھی اس قدر اہم ہیں لیکن کالج میں نہ آئی ٹی لیب کی ضرورت محسوس کی گئی ہے اور نہ ڈیجیٹل لائبریری کو اہمیت دیادیا گیا ہے دقیانوسی طرز پر کالج کے معاملات کو یوں ہی سردخانے کی نظر کردینے کی روش برقرار ہے کالج کی بسوں کے لیے مذید ڈرائیور رکھنے کے ساتھ چوکیدار، مالی اوردیگر چھوٹے اسٹاف کی کمی ہے کالج جو شہر سے کافی فاصلے پر واقع ہے اس میں بچیوں کے لیے کوئی کینٹین نہیں ہے اے ڈی اور اے، ڈی ایس کے لیے یونیورسٹی اف تربت کی جانب سے کوئی سلیبس مہیا نہیں کیاگیا ہے کالج انتظامیہ اس شش وپنج میں مبتلا ہے کہ یہ سمسٹروائز ہوگا یا یہ اینول سسٹم کے تحت چلے گا پنجگور کے عوامی حلقوں اور کالج کی طالبات نے کالج کے مسائل کو لیکر حکومت وقت اور محکمہ تعلیم سے استدعا کی ہے وہ گرلز ڈگری کالج پنجگور کے مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے اور کالج کے لیبوں کو فعال بنانے مذید کلاس رومز کی تعمیر بسوں کی فراہمی اسٹاف کی کمی آئی ٹی لیب ڈیجیٹل لائبریری امتحانی ہال کی تعمیر اسپورٹس گراونڈاور آڈیٹوریم کی بھی فوری منظوری دی جائے طالبات نے کالج کے پرنسپل فرزانہ حمید کی کاوشوں کو سراہا اور کالج میں مثالی نظم ونسق قائم رکھنے پر انکی تعریف کی اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کالج اب تدریسی حوالے سے مزید ترقی کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں