شاہ نورانی میں ایف سی کی نہتے عوام پر فائرنگ، خضدار میں کارکن پر قاتلانہ حملہ قابل مذمت ہے، بی این پی
کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ایف سی کی شاہ نورانی میں فائرنگ ،مردم شماری و خانہ شماری کے دوران خوف و ہراس پھیلانے ، خضدار میں پارٹی کے تحصیل جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمحمد بخش مینگل پر قاتلانہ حملہ ، کوئٹہ میں ایم پی اے ٹائٹس جانسن ، ملک محی الدین لہڑی ، علی احمد قمبرانی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ چند ہفتوں سے تسلسل کے ساتھ جو واقعات ہو رہے ہیں ان پر پارٹی سمجھتی ہے کہ ایک بار پھر بی این پی کیخلاف سازش شروع کی جا چکی ہیں ساتھیوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا ہے تاکہ ناانصافی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکے بی این پی ان واقعات کی مذمت کرتی ہے ظلم و زیادتیوں سے پارٹی قیادت و کارکنوں کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا۔ بی این پی جو شہداءکی جماعت ہے بڑی تعداد میں اکابرین ، ساتھیوں کو قتل کیا گیا پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے حلقے وڈھ ، زہری ،خضدار ، جھالاوان میں سازشوں کا مقصد یہی ہے کہ بی این پی کو دیوار سے لگایا جائے پارٹی کو قومی و جمہوری سیاست سے دور رکھا جائے مختلف حربے استعمال کر کے سازشیں شروع کی جا چکی ہیں بی این پی رہنماﺅں ، کارکنوں نے پہلے بھی تمام سازشوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اور اب بھی جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے رہنماں و کارکنوں کی حفاظت اولین ذمہ داری سمجھتی ہے پارٹی رہنماءڈاکٹر محمد بخش مینگل پر فائرنگ ، شاہ نورانی کا واقعہ کے ساتھ دیگر حربے اس بات کا تسلسل ہیں کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے حلقے شاہ نورانی ، وڈھ سمیت گردونواح میں دانستہ طور پر امن و امان کے مسئلے کو ظاہر کر کے یہاں کی آبادی کو کم ظاہر کیا جائے تاکہ سازشیں کامیاب ہو سکیں ترقی و اجتماعی مسائل کا حل مردم شماری سے منسلک ہے شاہ نورانی واقعہ میں ایف سی کی جانب سے غیور عوام پر فائرنگ ، چادر و چار دیواری کی پامالی کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو مردم شماری کے عمل سے دور رکھاجائے اس کے بعد کوئٹہ میں پارٹی رہنماﺅں کے ساتھ جوواقعات رونما ہوئے یہ بھی انہی سازشوں کا حصہ ہے پارٹی اس کی مذمت کرتی ہے ہر فورم پر پارٹی ناروا سلوک کے خلاف شدید احتجاج کرے گی اور ثابت قدم ہو کر تمام حالات کا قومی و سیاسی انداز میں جیسے پہلے مقابلہ کیا اور اب بھی پارٹی رہنماﺅں و کارکنوں کی حفاظت کو اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں اب جب انتخابات ہونے کو ہیں چند قوتیں متحرک ہو چکی ہیں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل اور پارٹی قیادت کی مقبولیت سے بی این پی فوبیا کا شکار ہونے والوں کی یہ خیام خالی ہے کہ وہ سازشوںمیں کامیاب ہوں گے ہر محاذ پر سیاسی انداز میں حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔


