پاکستان کی تقسیم کا مطالبہ قبول نہیں، عام لوگوں کو مارنے والے ناراض بلوچ نہیں ہوسکتے، ضیا لانگو

کوئٹہ(یو این اے )وزیر داخلہ بلوچستان میرضیاءاللہ لانگو نے کہاہے کہ دشمن ممالک کے ہاتھوں کھیلنے والے عام لوگوں کو مارنے والے ناراض بلوچ نہیں ہوسکتے، وہ لوگ جو سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا وہ ناراض بلوچ ہوسکتاہے ،دشمنوں کے کہنے پر پاکستان کی تقسیم کامطالبہ کوئی بھی ذی شعور قبول نہیں کرے گا،پنجاب،خیبرپشتونخوا، سندھ اور بلوچستان میں محکوم قومیں ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہتھیار اٹھاکر ملک کی جڑیں ختم کی جائیںاور ملکی سا لمیت کے ساتھ کھیل جائیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔میر ضیاءاللہ لانگو نے کہاکہ جب تک ساری قوم ایک پیج پر نہیں ہوگی اس جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگاریاست اور حکومت کوئی بے وقوف ہونگے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں سے بات چیت نہیںکرتے ہم صرف لڑائی لڑیںگے ،یہ صرف ہماری حکومت نہیں بلکہ پچھلے حکومتوں نے بارہا کوشش کی ہے کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کئے جائیں ،ماحول کو پرامن بنانے کیلئے سب کوایک پیج پر آناہوگا،کوئی سیاسی احتجاج کرتاہے انسان کونقصان نہیں پہنچاتا اس کو ناراض بلوچ کہا جاسکتاہے عام لوگوں کو مارنے والا کیسے ناراض ہوسکتا ہے میڈیا نے ناراض بلوچ کہہ کر ان کامورال بلند کیاہے جس کی وجہ سے وہ آج اس مقام پر پہنچے ہیں وہ پہلے دن سے تخریب کاری کررہے تھے دشمن ممالک کے ہاتھوں کھیل رہے تھے ہم نے اپنی سیاست کی خاطر ملک کی وقار کے ساتھ انہیں اس حد تک پہنچایاہے کہ آپ بتائیں مذاکرات کرے ،ان کامطالبہ پاکستان کی تقسیم کا رکھا گیا تو کوئی ذی شعور اس مطالبے کو تسلیم کرے گا، کیا یہ ناراض بلوچ ہیں ؟،محکوم قومیں پنجاب ،خیبرپشتونخوا ،سندھ میں بھی ہیں ،ہم بھی کہتے ہیں ناانصافیاں ہوئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہتھیار اٹھاکر ملک کی جڑیں ختم کی جائیںاور ملکی سا لمیت کے ساتھ کھیل جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں