ڈیجیٹل مردم شماری میں پیچیدگیاں محکمہ شماریات کی جانب سے پیدا کی جارہی ہیں، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میر رحمت بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ڈیجیٹل مردم شماری میں پیچیدگیاں محکمہ شماریات کی جانب سے پیدا کی جا رہی ہیں اس کو دور کیا جائے اور بلوچستان کو اب تک ایک اکائی کے دور پر تسلیم نہیں کیا ہے اگر مردم شماری کے حوالے سے تحفظات دور نہ کئے تو نیشنل پارٹی اس پر خاموش نہیں رہے گی دو صوبوں میں الیکشن مذاق ہوگا، فل کورٹ ہر جمہوریت پسندکا مطالبہ ہےموجودہ بحران کا حل فل کورٹ کی تشکیل ہے، جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ کے بعد چیف جسٹس کی اخلاقی پوزیشن کم زور ہوگئی بلوچستان کے حقوق پر کسی صورت خاموش نہیں رہے گی ہمیں سپریم کورٹ میں سیاستدان نہیں چاہئیے۔ چیف جسٹس صاحب اپنی ساکھ کھوچکے ہیں۔ کسی نے اگر سیاست کرنی ہے تو استعفیٰ دیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ صرف دو صوبوں میں الیکشن مذاق ہوگا، اس سے انارکی اور افراتفری پھیلے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر بلوچستان کی آبادی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے محکمہ شماریات نے صوبے کے ان اضلاع میں ایک یا دو افراد سے مردم شماری کررہے ہیں جہاں پر حالات پہلے سے ہی ناگفتہ ہے خان مردم شماری کے بعد جس دن مردم شماری شروع کیا اس دن سے سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے ان دوردراز علاقوں میں مردم شماری کا عملہ نہیں پہنچا جہاں پر حالات پہلے سے خراب ہے جہاں پر تخریب کاری ہو بدامنی ہو وہاں پر مردم شماری کو کیسے اس مختصر مدت میں مکمل کیا جائے گا بلوچستان میں ڈیجیٹل مردم شماری میں پیچیدگیاں محکمہ شماریات کی جانب سے پیدا کی جا رہی ہے اس کو دور کیا جائے اور بلوچستان کو اب تک ایک اکائی کے دور پر تسلیم نہیں کیا ہے بلوچستان کی اصل آبادی کو ایک بار پھر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور غیر ملکیوں کو خانہ و مردم شماری میں شامل کیا جارہا ہے جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے اب شماریات کے مطابق بلوچستان میں 75فیصد مردم شماری ہوئی ہے اس کو فوری طور پر100فیصد کیا جائے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک اور اپنی قوم کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ انگریزوں کے زمانے سے آج تک اس جمہوریت کیلئے اپنی زندگیاں دا پر لگادی ہیں۔ کوئی اگر اس نظام کو درہم برہم کرنے کا سوچے گا، تو ہم چپ نہیں رہیں گے۔ ہم نے اس نظام کو بچانے کیلئے اعلان کیا ہے ہمیں سپریم کورٹ میں سیاستدان نہیں چاہئے چیف جسٹس صاحب اپنی ساکھ کھوچکے ہیں۔ کسی نے اگر سیاست کرنی ہے تو استعفیٰ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں