توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن کی سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست خارج
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج کر دی۔اس سے قبل عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، عدالت نے مقررہ وقت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست خارج کی۔ منگل کو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت جج نے عمران خان کے وکلاء سے سوال کیا کہ توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی درخواست پر کیا کہتے ہیں؟ ۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جلد سماعت مقرر کرنے کا جواز کیا ہے؟ پیسہ ضائع ہوتا ہے، آج کل تحریکِ انصاف کے کیسز کی وجہ سے بہت مصروفیات ہیں، کیسز کی بھر مار کے باعث وکلاء کو تیاری کے لئے بھی وقت چاہیے ہوتا ہے، گزشتہ سماعت پر وکلا کی جانب سے ہڑتال بھی تھی۔عمران خان کے دوسرے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی مرضی سے 29 اپریل کی تاریخ لی، 2 دن بعد الیکشن کمیشن کو خیال آیا ہے کہ تاریخ جلد مقرر کرانی ہے ۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہم تو 2، 2 ماہ کی تاریخ مانگ رہے تھے، ایک ماہ کی نہیں۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کیس ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے دائر کیا، علی حیدر گیلانی کے خلاف بھی الیکشن کمیشن نے پرائیویٹ شکایت دائر کی ہوئی ہے، علی حیدر گیلانی کے خلاف کیس گزشتہ سال دائر کیا گیا تھا، 1 سال ہو گیا اور علی حیدر گیلانی کے کیس میں اب تک فردِ جرم عائد نہیں ہوئی، کیا بات ہے کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف کیس میں زیادہ دلچسپی ظاہر کر رہا ہے؟ علی حیدر گیلانی کے خلاف کیس میں ڈیڑھ ماہ کی تاریخ دی گئی۔عمران خان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی ایسی درخواست سے سارا نظام درہم برہم ہو رہا ہے، کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے اثر و رسوخ کے بغیر ہونا ہے، ملزم کے حقوق ہوتے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ کیس کو تاخیر کا شکار بنایا جا رہا ہے، عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ توشہ خانہ کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی کوشش کیس میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ عمران خان پر جرم عائد کیا جائے، پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان پر کیسز درج ہیں، وہ تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، نیب کے کیسز کے حوالے سے تو کسی ملزم کو درخواست نہیں گئی، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ جلد فیصلہ نہ ہوا تو ہمارا پیشہ ورانہ کام متاثر ہو گا، عمران خان کو آج بھی سکیورٹی کے خدشات ہیں، جس کے لئے درخواستیں ہائی کورٹ میں دائر ہیں، حکومت یہ بھی نہیں بتاتی کہ عمران خان کو سکیورٹی کب دینی ہے؟۔عمران خان کے وکلا کی جانب سے علی حیدر گیلانی کے کیس کا فیصلہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کے خلاف کیس میں جتنی دلچسپی لی گئی وہ سامنے ہے، عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی دلچسپی دیکھی جا سکتی ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ خواجہ حارث نے 15 روز مانگے، فیصل چوہدری کے کہنے پر ایک ماہ کا وقت مانگا گیا۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر سیاسی اثر و رسوخ نظر نہیں آنا چاہیے، جب ضرورت ہوئی عمران خان عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے جوابی دلائل میں کہا کہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے پاس پرائیویٹ کمپلینٹ دائر کرنے کا اختیار ہے، رشوت دینا اور گوشواروں میں اثاثے ظاہر نہ کرنا 2 مختلف کیسز ہیں۔اس دوران عمران خان کے وکیل علی بخاری بھی کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پر امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگانا غلط ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کرپٹ پریکٹسز پر 3 ماہ کے اندر ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے، سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک بار شکایت دائر ہو تو 3 ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے الیکشن کمیشن کی درخواست میرٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر دائر کی گئی، مجھے سپریم کورٹ نے کرپٹ پریکٹسز پر درخواست دائر کرنے کا حق دیا ہے۔خواجہ حارث کی جانب سے عدالت میں عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔جج ظفر اقبال نے کہا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی ضرورت نہیں، صرف نوٹس موصول کرانا تھا۔اس کے ساتھ ہی جج نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست واپس کر دی۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ علی گیلانی نے کبھی ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر الیکشن کمیشن کو جھوٹا نہیں کہا۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کا معاملہ سال سے التوا کا شکار ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عمران خان تین چار ماہ سے الیکشن کمیشن کے کیس کو جھوٹا کہہ رہے، سچے ہیں تو عدالت آئیں، عمران خان کی بریت کی کوئی درخواست اب تک نہیں آئی۔الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم تو ٹرائل جلد چلانا چاہتے ہیں، مگر توشہ خانہ کیس انوکھا ہے جہاں یہ التوا چاپتے ہیں۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تو یہی فیصلہ نہیں ہوا کہ توشہ خانہ کیس قابلِ سماعت ہے بھی یا نہیں۔ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس کی سماعت جلد مقرر ہوگی یا نہیں؟ اس ضمن میں فیصلہ محفوظ کر لیا اور قرار دیا کہ محفوظ کیا گیا عدالت نے بعد میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست خارج کر دی۔


