ڈی ایچ کیو ہسپتال قلات میں ایکسرے مشین خراب، الٹرا ساﺅنڈ اور دیگر مشینری چلانے کیلئے عملہ نہیں

قلات (نامہ نگار) ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کے ممبر میر ایاز خان مینگل نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قلات پر ضلع کے لاکھوں افراد کے علاج معالجے کا انحصار ہے مگر صحت کے بنیادی اور ضروری سہولیات کا فقدان ہے ایکسرے مشین بھی خراب پڑا ہوا ہے مریض معمولی ایکسرے کے لیے میلوں دور مستونگ اور کوئٹہ جاتے ہیں ایم آر آئی، الٹراساو¿نڈ کی مشینری موجود نہیں ای سی جی ودیگر کئی جدید مشینری موجود ہونے کے باوجود تکنیکی اسٹاف نہ ہونے کے باعث نہیں بے کار پڑے ہوئے ہیں غریب مریض مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں مریضوں کو ان کے لیے کوئٹہ یا دیگر دوردراز شہر جانا پڑتا ہے جس سے ان کی وقت اور اخراجات خرچ ہوتے ہیں ضلع قلات میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قلات کے اسٹاف اور تکنیکی عملے کی عدم تعیناتی سے غیر فعال ہے صحت کی تمام سہولیات بہم پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہے صحت کی سہولیات عوام دہلیز پرملنا انسانی بنیادی حقوق میں شامل ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اہم اور ضروری ادویات کا بھی فقدان ہے ہسپتال میں چھ ڈاکٹرز ہے وہ بھی اپنی ڈیوٹی بہترین انداز میں نبھائی ہے مگر ڈاکٹرز کی بھی کمی کا سامنا ہے صوبائی حکومت ایڈہاک کی بنیاد پر ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تعیناتی کی منظوری کے باوجود ابھی تک ڈاکٹرز ( *میڈیکل آفیسرز اور لیڈی میڈیکل آفیسر ) کی عدم تعیناتی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس کے علاوہ ادوایات کی بھی شدید کمی ہے چند گولیوں کے علاوہ مریض دیگر ادویات پرائیویٹ میڈیکل اسٹور سے خریدنے پر مجبور ہیں ضلع میں کم از کم ایک سرکاری ہسپتال کو مکمل فعال اور بہتر ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر صحت کی سہولیات میسر ہوسکے ہم چیف سیکریٹری بلوچستان، سیکریٹری صحت بلوچستان ، ڈی جی ہیلتھ بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قلات میں ایکسرے مشین کی فراہمی اور ایکو ،الٹراساو¿نڈ ، ودیگر مشینری کے آپریٹنگ کے لیے جلدازجلد تکنیکی اسٹاف کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات میسر ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں