نوشکی میں چینی کا بحران، فی کلو 150 روپے بلیک میں فروخت، شہری پریشان

نوشکی (یو این اے) آٹے کے بعد چینی کا بحران سر اٹھا لیا ضلع بھر میں چینی ناپید فی کلو ایک سو پچاس روپے بلیک میں فروخت ہونے لگی ضلع نوشکی کے راستے این چالیس آر سی ڈی شاہراہ پر روزانہ سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڈیوں میں دن رات چینی آٹا اور یوریا ہمسایہ ملک سمگل ہوتا دکھائی دیتا ہے جس کے اثرات باڈری اضلاع نوشکی اور چاغی پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں مقامی لوگوں کو قیمت بھی آٹا یوریا اور چینی باآسانی نہیں ملتی چینی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کسٹم اور سیکورٹی فورسز ان کے پرمٹ اور سرکاری دستاویزات ہونے کے بعد آٹے اور چینی لانے والے گاڈیوں کو کئی روز تک چیک پوسٹ پر روکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مال بردار گاڈیوں کو اضافی کرایہ دینا پڑتا ہے اور نوشکی پہنچتے پہنچتے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب افغانستان آٹا اور چینی سمگلنگ کرنے والی گاڈیوں کو کوئی روک ٹوک نہیں بلکہ کانوائے کی صورت میں انہیں پوری پروٹوکول کے ساتھ ان چیک پوسٹوں سے باآسانی اور باعزت طریقے سے گزارا جاتا ہے نوشکی میں اس وقت چینی ایک سو چالیس سے ایک سو ساٹھ روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے چینی کے حصول میں شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے یوٹیلیٹی اسٹورز پر سخت شرائط کی وجہ سے فی خاندان کو صرف دو کلو چینی دی جاتی ہے جوائنٹ فیملی ہونے اور رمضان المبارک میں چینی کی زیادہ استعمال کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جلیبی اور میٹھا فروخت کرنے والوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہے وہ بھی مجبورا نرخوں میں اضافہ کرتے ہیں جس سے کاروبار پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں گزشتہ روز گورنر بلوچستان کو ان کے دورہ نوشکی کے موقع پر ان مسائل سے آگاہ کیا گیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی عوامی سماجی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ نوشکی کے ڈیلرز کو چینی آٹا اور یوریا کی نوشکی لانے کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ نوشکی کے کوٹہ پر آنے والی ان اشیا کی ہمسایہ ملک سمگلنگ روکنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں