کوئٹہ میں سوئی گیس بلوں میں ناروا اضافہ قبول نہیں، حکومت نوٹس لے، بی این پی

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سی ای سی ممبر چیئرمین جاوید بلوچ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی دھوکہ بازی فراڈ اور عوام کے لوٹنے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ گیس لوڈشیڈنگ بالکل نہ ہونے کے برابر رہی، گیس سپلائی کے باعث عوام سراپا احتجاج تھے کہ گیس دستیاب نہیں، جس پر بی این پی کے پارلیمانی اراکین ایم پی اے ملک نصیر شاہوانی اور میر اختر حسین لانگونے اسمبلی فلور پر گیس حکام کیخلاف شدید احتجاج کیا جسکے بعد جزوی گیس محدود پیمانے پر آنکھ مچولی کےساتھ بحال ہوئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کا ناروا ظلم برداشت نہیں، گیس کمپنی اب اپنی مرضی کے سروے کرکے بلوں میں ناروا اضافہ کرکے عوام کو مہنگائی کے دور میں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے کیونکہ موجودہ بل سابقہ یعنی پریویس کے نام پر تقریباً پانچ ہزار چار سو اسٹینڈر کے نام پر چھے سو میٹر رینٹ، پانچ سو ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ستائیس سو یعنی آٹھ ہزار اضافی ماہانہ بل دوہزار میں شامل کرکے آٹھ ہزار پانچ سو پچاس روپے کا بل بناکر دیا ہے، جس کا واسطہ کسی بھی طرح کسٹمرسے نہیں بنتا، اب گیس محکمہ اتنے بے لگام ہوگئے ہیں، ہر ماہ عدالت یا اسمبلی ان کے لے نہیں لگتی، ان کے ناروا بلاوجہ من مانیوں کےخلاف کارروائی کرکے عوام کو ذہنی کوفت کا شکار بنانے اور گیس کمپنی کے ظلم سے نجات دلائی جائے۔ گورنر بلوچستان، عدالت عالیہ، وفاقی وصوبائی محتسب سے نوٹس لینے کی اپیل کی جاتی ہے کہ بلوں میں ناروا اضافے سے عوام نان شبینہ کے محتاج ہوں گے، ایک مہنگائی اور پھر گیس کمپنی کا ناروا ظلم جس میں ہر مہینے میٹر رینٹ اور اسٹینڈرڈ فیس سمیت اضافی بوجھ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں