کوہلو میں خاتون کی خودکشی، وٹہ سٹی کی شادی موت کی وجہ بنی، لیویز کی تفتیش

کوہلو : وٹہ سٹہ کے ذریعے شادی نے ایک بے گناہ خاتون کی جان لے لی تفصیلات کے مطابق کوہلوسفید کے نواحی علاقے میں 18 سال سے کمر عمر خاتون روز بی بی نے گھریلو ناچاقی کے باعث گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کرلی ہے لیویز حکام کے مطابق خاتون کی دوماہ قبل وٹہ سٹہ کے ذریعے شادی ہوئی تھی لیویز نے کاروائی کرتے ہوئے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ڈسڑکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہلو منتقل کردیا ہے جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ کے گلے میں رسی کے نشانات کے ثبوت ملے ہیں ابتدائی اطلاع کے مطابق مسماة (ر) نے زندگی سے دل برداشتہ ہوکرخودکشی کرلی ہے مزید تفتیش رسالدارمحمد ظریف مری کی نگرانی میں کوہلو لیویز کررہی ہے ضلع کوہلو میں یہ پہلا واقع نہیں ہے اس سے قبل کئی ایسے افسوسناک واقع پیش آئے ہیں خواتین پر بڑھتے ہوئے ظلم کے خلاف حکومتی سطح پر بنائے گئے محروم طبقے کے لئے ادارے خواب خرگوش کی نیند میں میں سوئے ہیں بلوچستان بالخصوص کوہلو میں خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم کے واقعات میں کم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہورہی ہے محروم طبقے خواتین کے ساتھ ظلم،جبری تشدد،پھانسی دیکر قتل کرنا،مبینہ طور پر کاروکاری کے الزام میں قتل کرنا، خواتین کی جانب سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشیاں کرنا سمیت کئی ظلم ہورہے ہیں لیکن مجال ہے کہ حکومت ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے یوں بلوچستان بالخصوص کوہلو میں خواتین کے ساتھ ظلم کے کئی واقعات پیش آئے ہیں لیکن تاحال کوئی مجرم یا ملزم کیفر کردار تک نہیں پہنچا ہے خواتین پر مختلف ظلم، بالخصوص کاروری کے نام بے دردی سے قتل کرنا اور قاتلوں کی اکثریت قانون کی گرفت سے آزادی ملتی ملتی آرہی ہے تاہم کچھ بااثر لوگ،طاقتور لوگوں کی ہمایت پر گواہان یا مقتول خاندان اپنے کیس سے دستبردار تک ہوجاتے ہیں جس سے ان سفاک قاتلوں کو ریلیف ملتا ہے اور وہ قانونی طور پر آزاد ہوجاتے ہیں اور یوں تاحال کوئی بھی ملزم یا مجرم نہیں قرار پایا ہے خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم کے واقعات کے روک تھام کی سخت ضرورت ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت و وفاقی حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے اس حوالے سے عورت فاونڈیشن سمیت حکومتی سطح پر بنائے گئے اداروں کو چاہیے کہ اس حوالے جلد از جلد اقدامات اٹاٹھائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں