حکومت اور اپوزیشن ڈائیلاگ کا آغاز کریں، ہم ان کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے،لشکری رئیسانی

خان گڑھ+کوئٹہ: سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئیں ڈائیلاگ کا آغاز کریں ہم ان کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ بلوچستان کے لوگوں اور وفاق میں عدم اعتماد ہے طاقت کے استعمال نے بلوچستان کی ناراضگیوں، مایوسی، عدم اعتماد اور نفرتوں میں اضافہ کیا۔یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز نوابزادہ نصراللہ خان( مرحوم )کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر نوابزادہ عمران خان ، سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد، سابق صوبائی وزیر حاجی میر اسماعیل گجر ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ کوئٹہ ، پشاور اور کراچی کے بعد بروز( ہفتہ) 29 اپریل کو گورنمنٹ کالج لاہور میں نیشنل ڈائیلاگ آن دی ری ایمیجننگ پاکستان کے عنوان سے چوتھا سیمینار منعقدہ کیا جارہا ہے جہاں وہ اور ان کے ساتھی تمام قومی اکائیوں بالخصوص بلوچستان کے معاملات پراپنا نقطہ نظر24 کروڑ عوام کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت بدترین سیاسی ، انتظامی، اخلاقی ، معاشی ، سماجی بحران سے دوچار ہے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں لوگ لاپتہ ہیں ، ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ہماری آئندہ نسلیں جہالت کی تاریکی میں آنکھیں کھولیں گی، ایک زرعی ملک میں لوگ آٹے کے تھیلے کیلئے مررہے ہیں تاہم اس جانب توجہ دینے کی بجائے ریاستی ادارے آپس میں ٹکرا کر ملک پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ، پارلیمنٹ میں عوام کے اجتماعی مسائل پر کوئی بات نہیں ہورہی اس لیے ان مسائل کو زیر بحث لانے کیلئے ہمارے ہم خیال گروپ نے ملک گیر ڈائیلاگ کا آغاز کیا ہے اور اس پلیٹ فارم سے وزیراعظم محمد شہباز شریف حکومتی اتحاد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں ، عمران خان اور ان کی اتحادی جماعتوں اور وہ جماعتیں جو حکومت اور اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں ڈائیلاگ کا آغاز کر کے ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد ، اداروں کے آئینی حددو کا تعین ، انسانی حقوق کا تحفظ کرکے جمہوریت کے استحکام ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، قومی اکائیوں کومضبوط کرنے کی بنیاد رکھیں ہم ان کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگوں اور وفاق میں عدم اعتماد ہے صوبے کے عام لوگ وفاق سے ناراض اور مایوس ہیں ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال نے بلوچستان کی ناراضگیوں، مایوسی ، عدم اعتماداورنفرتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے پاس قومی معاشی ،معاشرتی اور سیاسی منشور نہیں آڈیو اور ویڈیو لیکس کے گرد سیاست گھوم رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ریاستی ادارے آپس میں ٹکرا کراسلام آباد پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس سے ملک میں بغاوت کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں