بلوچستان میں راتوں رات پارٹیاں بنانے، سیاسی ٹرانسفر پوسٹنگ کرنے والوں کا بھی کورٹ مارشل ہونا چائیے، حاجی لشکری خان رئیسانی
کوئٹہ(انتخاب نیوز) سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں راتوں رات پارٹیاں بنانے، سیاسی ٹرانسفر پوسٹنگ کرنے والوں کا بھی کورٹ مارشل ہونا چائیے، باپ اور اس کے اتحادیوں نے بلوچستان کے ساحل وسائل، آئندہ نسلوں کے وسیلہ ریکودک کو فروخت کیا، بلوچستان کی حقیقی سیاسی قیادت کا راستہ روکنے کیلئے جعلی سیاسی قیادت ایجاد کرکے سیاسی عمل کو روکاگیا ہے، لاپتہ افراد کے ایک بہت بڑے انسانی المیہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے کمیشن پر کمیشن تشکیل دیئے جاتے ہیں، بلوچستان میں وفاق گریز فکر میں اضافہ ہوا ہے اسے کم کرنے کیلئے اداروں اور عوام کے درمیان باضابطہ سوشل ڈائیلاگ کا آغاز،سول سوسائٹی بلوچستان کے لوگوں کو سوشو سائیکلوجیکل تھراپی دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔یہ بات انہوں نے جمعہ کے روزلاہور گارڈن ٹاؤن میں واقع ہیومن رائٹس کمیشن کے دفتر کے دورے کے موقع پر ڈائریکٹر فرح ضیاء سے ملاقات میں گفتگوکرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ پاکستان ایک کثیر القومی مملکت ہے1940ء کی قرار داد کے تحت اس فیڈریشن کی تشکیل کے بعد 1948ء میں محمد علی جناح اور بلوچ اسٹیٹ یونین کے سربراہ خان آف قلات کے درمیان معاہدے کے تحت بلوچستان کو اس فیڈریشن کا حصہ بنایا گیا بلوچستان آزاد مملکت کی حیثیت سے پاکستان میں شامل ہوا مگر افسوس74 سالوں کے دوران نہ تو 1940ء کی قرار داد پر عملدرآمد ہوسکا ہے نہ ہی خان قلات اورمحمد علی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو تسلیم کیا گیا 1973ء کے آئین اور اٹھارویں آئینی ترمیم کو بھی پاؤں تلے روندکر ہمیں آئین کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کی سزادی جارہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں اور عدلیہ نے بھی ہمارے سیاسی عمل کا راستہ روکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے تحت ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہماری عزت وآبرو کا دفاع کرتی ہمارے تاریخی پس منظر اور ثقافت کو تسلیم کیا جاتا مگر یہاں بلوچوں اور پشتونوں سے ان کے ہزاروں سالوں پر محیط وطن پرستی، دیانتداری کی شناخت اور غیور ثقافت کو چھین کر کسی اور کی شناخت اور ثقافت کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جب محرومیوں کیخلاف بلوچستان کے نوجوان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں لاپتہ کیا جاتا ہے جس سرزمین کیلئے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانیں قربان کی ہیں آج اس سرزمین کے لوگوں سے ان کی شناخت پوچھ کر تذلیل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں ہمارے تاریخی پس منظر، انسانی اور آئینی حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام ہوئی ہیں لاپتہ افراد کے مسئلہ کو افراتفری کا شکار بنانے کیلئے کبھی جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو کبھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر کمیشن بنایا جاتا ہے، صوبائی سطح پر بھی کمیشن قائم ہے جس کا مقصد صرف اور صرف ایک بہت بڑے انسانی المیہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست نے بلوچستان کے لوگوں کی عزت و آبرو کا دفاع،تاریخی پس منظر اورثقافت کو تسلیم کر نے کی بجائے صوبے کی حقیقی سیاسی قیادت کا راستہ روکنے کیلئے جعلی سیاسی قیادت ایجار اور پارٹیاں بناکر سیاسی عمل کو روکا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں راتوں رات باپ پارٹی بنانے والوں کا بھی کورٹ مارشل ہونا چائیے باپ اور اس کے اتحادیوں نے بلوچستان کے ساحل وسائل، آئندہ نسلوں کے وسیلہ ریکودک کو فروخت کیا جو فیڈریشن کے اصولوں کے تحت ہماری آئندہ نسلوں کا تھا اور اب جب باپ کی عمرپوری ہوئی ہے تو اس کے بچوں کا تبادلہ دوسری سیاسی جماعتوں میں کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں وفاق گریز فکر میں اضافہ ہوا ہے اسے کم کرنے کیلئے اداروں اور عوام کے درمیان باضابطہ سوشل ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے اور سول سوسائٹی بلوچستان کے لوگوں کو سوشو سائیکلوجیکل تھراپی دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔


