بلوچستان ہائیکورٹ میں ادویات کے بجائے ڈاکٹروں کے نسخے میں فارمولہ لکھنے سے متعلق کیس کی سماعت
کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس سرداراحمدحلیمی پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے بلوچستان میں ادویات کے نام کے بجائے ڈاکٹروں کے نسخے میں فارمولہ لکھنے سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے استدعا کی کہ ڈاکٹروں کو پابند کیا جائے کہ ادویات کے نام کے بجائے جنرک نیم (فارمولہ)لکھا جائے تاکہ دو نمبر ادویات کی اہمیت ختم ہو۔جسٹس محمدکامران خان ملاخیل نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ ) سے استفسارکیاکہ ڈریپ کا ڈرگ انسپکٹر بلوچستان کے بجائے کراچی میں کیوں بیٹھتا ہے، آپ کو تو بلوچستان میں ہونا چاہیے، جسٹس سردار حلیمی کا نمائندہ ڈریپ سے استفسار کیاکہ بلوچستان میں آپ کن کن علاقوں میں گئے ہیں جس پر نمائندے نے عدالت کوبتایاکہ میں حب، خضدار، قلات اور کوئٹہ کے دورے کئے ہیں، جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہاکہ بطور فیڈرل ڈرگ انسپکٹر آپ نے اب کتنے کیسز کئے ہیں، جس پر ڈرگ انسپکٹرنے بتایاکہ میں اب تک دو کیسز کئے ہیں، بعدازاں کیس ملتوی کردی گئی۔


