نوکنڈی میں چینی اور آٹے کی قلت، منافع خور مہنگے داموں فروخت کرنے لگے
نوکنڈی:تحصیل نوکنڈی میں آٹے کی قلت سراٹھانے لگی آٹا ناپید عوام پریشان ضلع چاغی کے شہروں دالبندین تفتان اور چاگئے کی طرح نوکنڈی میں بھی آٹا اور چینی ناپیدہوگیا زخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے بھی مہنگے داموں آٹا اور چینی فروخت کرنے کے لئے مکمل کمر کس لی ہے کیونکہ دو تین دن پہلے نوکنڈی کے اکثردکانوں میں آٹے کے تھیلوں کی وافر مقدار دکانوں میں نظر آرہی تھی مگرآج ان دکانوں میں آٹے کاکوئی تھیلا نظرنہیں آیا اس سے خدشہ یہی ہوتا ہے کہ دالبندین ودیگرعلاقوں کی طرح یہاں کے دکانداروں میں بھی زیادہ منافع کمانے کاجذبہ پیدا ہوا ہے یادرہے پہلے جب افغانستان چینی اور آٹے کی اسمگلنگ ہورہی تھی تو روزانہ سینکڑوں ٹرکوں میں لوڈ روزانہ کی بنیاد پر نوکنڈی لائے جاتے اب جب سرکار کی جانب سے سخت ترین پابندی لگادی گئی ہے تو ایسے میں آٹے اور چینی کی قلت سوالیہ نشان بن گئی ہونا تو یہ چائیے تھا کہ افغانستان آٹے اور چینی کی اسمگلنگ رکنے کے بعدزیادہ آسانی سے لوگوں کو آٹا اور چینی مل جاتا مگرمعاملہ اسکے برعکس ہے لگتا ہے کہ مافیاز اورذخیرہ اندوز نے نئی حکمت عملی کے تحت آٹا اور چینی دکانوں کی بجائے گوداموں اور خفیہ ٹھکانوں میں چھپا رکھے ہیں تاکہ شدید بحرانی حالت میں انھیں مہنگے داموں فروخت کرکے زیادہ سے زیادہ منافع کمایاجاسکے اہلیاں نوکنڈی نے ڈپٹی کمشنرچاغی حسین بلوچ سے مطالبہ کی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اورناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھاکر انکے خلاف قانونی کاروائی کریں


