بولان میڈیکل کالج کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور الاﺅنسز ادا کیے جائیں، ڈاکٹر ظہور شاہ

کوئٹہ: بلوچستان میڈیکل کالجز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ظہور شاہ نے کہا ہے کہ حکومت ایک ماہ میں ہمارے 9نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کرے بصورت دیگر ہم احتجاج کا راستہ اختیار کرینگے بی ایم سی میں پڑھانے والے اساتذہ کو ایک سال سے الاﺅنس نہیں دیا گیا اسی طرح دیہی علاقوں میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے کی بجائے کٹوتی کی جا رہی ہے یہ بات انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بولان میڈیکل کمپلکس ہسپتال کے گیٹ کے باہر لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر ڈاکٹر مقبول ،ڈاکٹر الیاس بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے، ڈاکٹر ظہور شاہ نے کہا کہ ہماری ایسوسی ایشن نے حکومت کو 9نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے جس میں ڈاکٹر ز کو درپیش مسائل مشکلات اور حقوق کے حصول اور ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے چیزیں شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بولان میڈیکل کالج میں پڑھانے والے ٹیچرز کو ایک سال سے الاﺅنس نہیں دیا گیاہے اسی طرح دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے کی بجائے کٹوتی کی جارہی ہے، صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ادویات میں کمی کا سامنا ہے،ہیلتھ پروفیشنل الاو¿نس بحال کیا جائے الاو¿نس میں اضافے کی بجائے بندش ظالمانہ اقدام ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، بلوچستان حکومت کے پاس کرپشن کیلئے پیسہ ہے لیکن الاو¿نس کیلئے نہیں ،ہر دو ماہ بعدکرپشن کی وجہ سے سیکرٹریز تبدیل کئے جا رہے ہیں۔اس وقت 100 فیصد میڈیکل اسامیاں خالی ہیں حکومتی نااہلی کی وجہ سے اسامیاں خالی ہیں ان کو پر کرنے کیلئے بپلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کے عمل کو مکمل کیا جائے تاکہ محکمے میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جاسکے،اس کے علاوہ ڈاکٹرز،ٹیچنگ الاو¿نس میں اضافہ کرکے کم از کم ایک لاکھ کیا جائے ،میڈیکل ٹیچنگ کو صرف پانچ سو روپے ماہانہ 5سو الاو¿نس دیا جاتاہے جو اس مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے، انکا کہنا تھا کہ ،میڈیکل فیکلٹی سروس رولز کو فوری منظور کیا جائے،حکومت کی جانب سے بار بار وعدہ کیا جاتاہے لیکن ان وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ڈاکٹرز میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں