مستونگ میں لیویز اسامیوں کے ٹیسٹ و انٹرویو میں بدنظمی، امیدواروں پر تشدد

مستونگ (این این آئی) مستونگ میں جاری لیویز فورس کی خالی آسامیوں کے ٹیسٹ انٹرویو میں بدنظمی اور کیو آر ایف اہلکاروں کی امیدواروں پر تشدد، انٹرویو کا سلسلہ انتہائی سست روی کا شکارانٹرویو¿ز متنازعہ بننے لگے، امیدواروں کا احتجاج خرید اور فروخت کا الزام، تشدد واقعہ کے بعد میڈیا کے نمائندے موقعے پر پہنچے تو کیو آر ایف لیویز اہلکاروں کی میڈیا نمائندوں سے بھی بدتمیزی موبائل چین لئے گئے،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مستونگ کی مداخلت پر موبائل واپس کردی گئی، تفصیلات کے مطابق مستونگ میں لیویز فورس کے خالی آسامیوں کیلئے نوروز فٹبال اسٹیڈیممیں ڈائریکٹر لیویز فورس کوئٹہ و دیگر کے نگرانی میں جاری فزیکل ٹیسٹ انٹرویوز اور دوڈ میں بدنظمی و بدتمیزی اور تشدد، اہلکار بےروزگار نوجوانوں پر تشدد کرنے اور انہیں گھسیٹنے پر اتر ائے، بدنظمی و تشدد کے واقعے اور ٹیسٹ و انٹرویوز کچھ دیر کیلئے روکنے کی اطلاع پر میڈیا کے نمائندے جب معلومات حاصل کرنے اور زمہ داروں کا موقف جاننے پر اسٹیڈیم پہنچے تو کیو آر ایف اہلکاروں کی جانب سے کوریج کرنے سے روکھاگیا اور انہیں کہاگیا کہ ڈائریکٹر لیویز کی جانب سے میڈیا کے داخلے پر پابندی ہے، تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مستونگ اسٹیڈیم پہنچے تو میڈیا کے نمائندوں کو اندر آنے کی اجازت دی اسی اثنا میں مین گیٹ پر امیدواروں اور اہلکاروں کے درمیان ایک باپھر تلخ کلامی شروع ہوئی، اور اہلکار نوجوان کو گھسیٹنے لگے اس دوران حقائق چھپانے کیلئے اہلکاروں نے میڈیا کے نمائندوں کی موبائل چینے جس کی سخت مزمت کرتے ہیں۔۔۔کوئٹہ کیو آر ایف لیویز اہلکاروں کی امیدواروں اور صحافیوں سے ہتک آمیز رویہ خرید و فروخت کو دوام دینے کی کوشش ہے ڈائریکٹر لیویز کے سرپرستی میں بےروزگار نوجوانوں کو گھسیٹنے و تشدد اور باعزت شہریوں کی عزت نفس مجروح کرنے کا عمل سخت قابل مزمت ہے اس طرح کے عمل نے لیویز پوسٹوں کی انٹرویو اور ٹیسٹنگ کے عمل مشکوک بنایاجارہاہیں، اور شفافیت پر پر کئی سوالات پیدا ہوگئے، سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے تشدد کے واقعات کی مزمت اور احتجاج کرنے کا عندیہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں