غیرقانونی کان کنی حادثات کا باعث ہے، شعبے سے ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے، پاکستان سینٹر مائنز لیبر فیڈریشن

کوئٹہ (یو این اے) پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین عبدالستار نے کہا ہے کہ غیر قانونی مائننگ کی وجہ سے کوئلے کی کانوں میں حادثات کے باعث اموات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کوئلے کی کانوں سے ٹھیکیداری نظام ختم کرکے حکومت ، مائنز مالکان، مزدور اورچیف مائنز انسپکٹر اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں تو کوئلے کی کونوں میں حادثات کی روک تھام کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ صحت و سلامتی سمیت مائنز ورکرز کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین عبدالستار کا کہنا تھا کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کش اپنی جان داو پر لگا کر کام کرتے ہیں، کوئلے کی کانوں میں حادثات معمول بن گئے ہیں،ٹھیکیداری سسٹم کی وجہ سے کان کنی کے شعبے میں مائنز لیبرسیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،جس کے سبب اکثر اوقات گیس کے اخراج سے کان منہدم ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب مزدور شہید ہو جاتے ہیں،لہذا میں حکومت سے مطالبہ کرتاہوںکہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت وسلامتی کے قانون پر عملدرآمدکروایاجائے، 1923میں انگریز سرکار کے بنائے گئے مائنز ایکٹ میں ترامیم کی جائیں،آئی ایل او کے کنونشن -C 176 کا اطلاق کیاجائے اورکان کنی شعبے کے مزدوروں کی ای او بی آئی میں ر جسٹریشن کی جائے،ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ اور فنڈ کو وفاق کے پاس رہنے دیا جائے تاکہ مزدوروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین عبدالستار کا کہنا تھا کہ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کی نجکاری کسی صورت منظور نہیں ، صوبائی حکومت پی ایم ڈی سی کے لیز شدہ معاہدوں کی پابندی کرے،علاوہ ازیں پی ایم ڈی سی کے جتنے بھی اثاثے صوبے کے اندر یا صوبے سے باہر دوسرے صوبوں میں ہیںپاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن ان اثاثوں وملکیت سمیت وہاں کے مقامی لوگوں کے حق ملازمت کا تحفظ چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں