باجیزئی قبیلے کا ہنگامی اجلاس، اب مزید ظلم برداشت نہیں کرسکتے،جلد اپنے سردار کا اعلان کرکے ان مظالم کو روکیں گے، مقرررین
کوئٹہ (صباح نیوز) باجیزئی مینگل کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کیں اس کے ساتھ سفید ریش اور معززین کی بھی بڑی تعداد اس اجلاس میں موجود تھیں۔اجلاس میں باجیزئی قبیلے پر ہونے والی ظلم و زیادتیوں پر سیر حاصل بحث ہوئی اور یہ کہا گیا کہ باجیزئی قبیلہ ایک انتہائی شریف اور پرامن قبیلہ ہے، غریب لوگ ہیں۔ محنت مزدوری کرکے اس مہنگائی میں بڑی مشکل سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ اس لئے ان کو شریف دیکھ کر ہر کوئی غنڈہ، بدمعاش اور سمگلر آکر ان پر ظلم کرتا ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ آخر ہم کب تک ان ظلم و زیادتیوں کو برداشت کرتے رہیں گے؟ ہمارے گھروں پر حملہ ہوتے ہیں ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمارے ٹیوب ویل تباہ کیئے جاتے ہیں، شمسی پلیٹوں کو اٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کے دکانات گرائے جاتے ہیں۔ ہم مجبور ہوکر ان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ظلم اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔ بھائی کو بھائی کے ساتھ لڑایا جارہا ہے مطلب کہ باجیزئیوں پر مکمل غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا نظام برپا کیا گیا ہے۔ یہ کوئی پرائے نہیں اپنے ہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے ہم ڈر اور خوف سے ذہنی مریض بن گئے ہیں۔کب کون آئے ہمارے گھروں کو لوٹے؟ کب ہماری فصلیں تباہ کریں؟ کب ہمارے سامان لوٹ کر فرار ہوجائیں۔ او بھائی ہم غریب لوگ ہیں اتنا نقصان برداشت نہیں کرسکتے اس لئے اب مجبور ہوگئے کہ اپنی حفاظت کے لئے خود اٹھ کھڑے ہوجائے کیونکہ سرکار نام کی کوئی چیز اس وقت موجود نہیں جو اس ظلم کو روک سکے۔ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ باجیزئی قبیلے کا چونکہ اپنا کوئی سردار نہیں ہے اس لئے وہ اس ظلم و زیادتی کا شکار ہیں۔ اجلاس کے معتبرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں جلد اپنا ایک سردار منتخب کرنا پڑے گا اور اس کو یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ آپ نے باجیزئی کی طاقت بن کر ان غریب لوگوں کو ان ظلم و زیادتیوں سے بچا لیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔ اب وہ وقت گزر گیا کہ ہم مزید ظلم برداشت کرتے رہے ۔ انشاہ اللہ ہم اپنے سردار کی طاقت سے ہر قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اجلاس میں کافی ناموں پر غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ میر جمیل مینگل، فرزند میرحاجی آزاد خان مینگل کو قبیلہ باجیزئی اپنا سردار منتخب کرے گا جو ایک مخلص اور ایماندار شخص ہیں۔ جس نے دنیا دیکھی ہیں۔ انصاف دیکھے ہیں۔ اور انتہائی پڑھا لکھا انسان بھی ہیں۔ اس لئے ہم سب ایک میڑھ کی صورت میں میرجمیل مینگل کے پاس جائیں گے اور انہیں یہ آفر کریں گے کہ آپ آکر باجیزئی کی حفاظت کا ذمہ داری اٹھا لیں جس کے لئے قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ہم اپنا پیٹ کاٹ کر اور تمام باجیزئی قبیلہ سے پوڑی کرکے سردار کے لئے ایک قلعہ بنائیں گے اور ان کے بیٹھک کا تمام خرچہ بھی برداشت کریں گے۔ اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ اب تک اس سلسلے ہم نے چونکہ میرجمیل سے بات نہیں کی ہے اس لئے باجیزئی قبیلے کے نوجوان، بوڑھے، مرد، عورت اور بچے سب ان کے پاس جائیں گے تو یقینا وہ ہماری مجبوریوں کو دیکھ کر یہ ذمہ داری قبول فرمائیں گے۔


