ایس بی کے یونیورسٹی کے تحت ٹیسٹنگ اور بھرتیوں کا عمل منسوخ کیا جائے، کلثوم نیاز بلوچ

کوئٹہ:نیشنل پارٹی خواتین ونگ کے صوبائی سیکرٹری کلثوم نیاز بلو چ نے محکمہ تعلیم میں 9 ہزار سے خالی اسامیوں کی بہادر خان وویمن یونیورسٹی اور ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بھرتیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم بلوچستان نے حالیہ 9 ہزار خالی اسامیوں پر میرٹ کے مطابق بھرتی کرنے کے بجائے اپنی لسٹوں کے ذریعے بندر بانٹ جاری ہے تعلیم کے شعبے میں پشتون، بلوچ مشترکہ صوبہ پہلے سے ہی زبوں حالی کا شکار ہے، اسکولز بند اور لاکھوں طلبہ و طالبات اسکولوں سے باہر ہیں اور اب رہی سہی کسر ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے میرٹ کے برخلاف بھرتیوں کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی۔ کلثوم نیاز بلوچ نے گزشتہ روز خواتین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے ساتھ کےے گئے وعدے کے مطابق بھرتیوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کروا کر نوجوانوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے خدشات کا ازالہ کریں کیونکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری ٹیسٹ و انٹرویوز میں شکایات اور بھرتیوں میں کرپشن اور میرٹ کی باتیں زبان زد عام ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھرتیوں کو پبلک سروس کمیشن کے بجائے نام نہاد ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے عجلت میں بھرتیاں کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت پری پلان ہورہا ہے اور طلباءو طالبات کے ٹیسٹ وانٹرویوز محض ایک فراڈ اور خانہ پوری ہیں اور رشوت و سفارش کے زور پر لسٹیں پہلے ہی فائنل ہوچکی ہیں۔ سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی، محکمہ تعلیم اور ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بلوچستان کے تمام اضلاع میں خالی اسامیوں کےلئے جاری ٹیسٹ پر مختلف اضلاع میں سرعام نقل، موبائل فون کی سرعام چوٹ اور اکثر امیدواروں کا حاضری کے بعد نکل جانا پر گہری تشویش کا اظہار ہے، نام نہاد ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بھرتیوں کا انعقاد ظاہر کرتا ہے کہ ذہین طالب علموں کے حقوق پر ڈاکہ مارا جارہا ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور گورنر بلوچستان ان تمام پوسٹوں کو منسوخ کرکے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو دیں تاکہ حق دار کی حق تلفی نہ ہو، بصورت دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر بلوچستان میں محکمہ تعلیم میں ہونے والے بے ضابطگیوں پر سنجیدگی سے اقدامات اٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں