بلوچستان میں 2022 کے دوران ہیلتھ کیئر ورکرز کے خلاف پرتشدد واقعات میں دگنا اضافہ ہوا، رپورٹ
کوئٹہ:بلوچستان میں 2022 کے دوران ہیلتھ کیئر ورکرز کے خلاف پرتشدد واقعات میں دگنا اضافہ ہوا ہیں سیف گارڈنگ ہیلتھ اِن کانفلکٹ کولیشن (ایس ایچ سی سی) کی جانب سے جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2021 کے مقابلے میں2022 کے دوران ہیلتھ کیئر ورکرز کے خلاف تشدد یا ان کے کام میں رکاوٹ کے واقعات میں دگنا اضافہ ہوا جوکہ بظاہر ملک میں عدم تحفظ کے اضافے کی عکاسی کرتا ہےایس ایچ سی سی کی گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں 2022 کے دوران پاکستان میں ہیلتھ کیئر ورکرز کے خلاف تشدد کے 16 واقعات کی نشاندہی کی گئی، جن کی تعداد 2021 میں 7 تھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے تقریبا 90 فیصد واقعات میں پولیو کے قطرے پلانے والے ورکرز کے خلاف دھمکیاں اور تشدد رپورٹ ہوا، یہ واقعات ویکسینیشن کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ہیلتھ کیئر ورکرز کی صلاحیت کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں تمام واقعات میں سے تقریبا دو تہائی خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع کے سرحدی علاقوں میں رپورٹ ہوئے، بلوچستان میں ہیلتھ کیئر ورکرز پر حملے اور رکاوٹیں بھی رپورٹ ہوئیں تاہم ان کی تعداد نسبتا کم رپورٹ ہوئی زیادہ تر واقعات میں پولیو ورکرز کے خلاف ویکسینیشن مہم کے دوران یا ان کے گھروں پر دھمکیاں یا تشدد ہونے کی شکایتیں رپورٹ ہوئیں حفاظت کے لیے ویکسینیشن مہم کے عملے کے ساتھ حفاظتی گارڈز یا پولیس اہلکار اکثر موجود ہوتے ہیں، 2022 کے دوران اس طرح کے 8 محافظوں کو قتل 15 کو زخمی اور 2 کو اغوا کر لیا گیا، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور نتیجتا ویکسینیشن مہم میں خلل پیدا ہوا، رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ریکارڈ شدہ واقعات کی تعداد اصل تعداد سے کم ہےحفاظتی ٹیکوں کی مہم میں حصہ لینے والے ہیلتھ ورکرز کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران آئے روز تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر یہ واقعات عام طور پر رپورٹ نہیں کیے جاتےقدامت پسند دیہی علاقوں اور بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں غلط معلومات کی وجہ سے ویکسین سے ہچکچاہٹ اور اس کے خلاف پروپگینڈے کے سبب پولیو کے خاتمے کی مہم کو واضح دھچکا لگا پاک-افغان سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات، سیکیورٹی خدشات اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کے دوبارہ سر اٹھانے کے سبب 2022 کے دوران پولیو ویکسینیشن مہم متاثر ہوئی جن میں بلوچستان سہرفہرست ہم بلوچستان کے مختلف علاقے جن میں چمن قلعہ عبداللہ گلستان ان مستونگ پنجابی نوشکی شامل ہیں۔


