محکمہ تعلیم میں لازمی سروس ایکٹ کاخاتمہ سمیت تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں، گورنمنٹ ٹیچرز بلوچستان
کوئٹہ : گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنماوں نے کہا ہے کہ اساتذ ہ کے 22نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈپر فوری طور پرعملدرآمدکو یقینی بنایاجائے گااگر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کو کچھ ہوا تو حکمرانوں اور بیورو کریسی ذمہ دار ہوگی اب بھی وقت ہے کہ بیورو کریسی اساتذہ کے مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز آجائیں بصورت دیگر انہیں اساتذہ کے غیض و غضب سے کوئی نہیں بچاسکے گا، بھوک ہڑتالی کیمپ آکر تعاون کایقین دلانے پر سیاسی جماعتوں ،ملازمین تنظیموں کے قائدین کے شکر گزار ہیں۔یہ بات گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حاجی حبیب الرحمن مردانزئی، سیکرٹری جنرل سجاد حسین رند، چیف آرگنائزر حاجی محمد یونس کاکڑ، گل باران حسنی، نواب خان، مرتضیٰ محمد شہی، شہزادہ کاکڑ، محمد ابراہیم بادینی، طارق عزیز مگسی، ثناءاللہ سمالانی، جمیل الدین کاکڑ، محمد صدیق مشوانی نے جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی دوسرے روز صوبائی وزیرصنعت و تجارت حاجی طورخان اوتمانخیل ،نیشنل پارٹی کی مرکزی رہنما وسابق رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹرشمع اسحاق،وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوارڈی نیٹرنورخان ترین، گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن آئینی بلوچستان کے صدر مجیب غرشین ،پروفیسرز اینڈلیکچرزایسوسی ایشن کے سابق صدرزاہد ، یوسف کاکڑاوردیگر نے بھوک ہڑتالی کیمپ آکر اساتذہ سے اظہار یکجہتی اورتعاون کایقین دلایا۔مقررین نے کہاکہ اساتذہ کے جائز حقوق کے حصول کیلئے تمام اساتذہ اکٹھے ہیں اور کسی کو بھی اساتذہ کے حقوق غضب کرنے کی اجازت نہیںدیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اساتذہ کومعاشرے میںعزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے لیکن ہمیںافسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج اساتذہ اپنے جائز مطالبات کے حل کیلئے بلوچستان اسمبلی کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جونیئر کیڈرز اورہیڈماسٹر،ہیڈمسٹریس کی غیرمشروط اپ گریڈیشن ،پری میچورانکریمنٹ کی کٹوئی کاخاتمہ ، مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میںخاطرخواہ اضافہ ، جونیئر کیڈرز کےاساتذہ کرام کی پروموشن میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پردور کرکے انہیں پرموٹ کرنے،2019ءکے بعد نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کرام کیلئے ٹائم اسکیل کے خاتمے کا نوٹیفکیشن واپس لینے ،صوبہ بھر کے اسکولوں میں مسنگ پوسٹوں کے مسئلہ کے حل کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ بینوولیٹ فنڈ کی پالیسی پرنظرثانی کرکے کٹوتی اورادائیگی میں توازن قائم ،محکمہ تعلیم میں لازمی سروس ایکٹ کاخاتمہ کیاجائے آغاز حقوق بلوچ ستان پیکج ،گلوبل پارٹنرشپ فارایجوکیشن ، سیو دی چلڈرن ، ESRAاور لاءفارم پر وجیکٹ کے تحٹ بھرتی ہونے والے اساتذہ کرام کو تاریخ تقرری سے مستقل کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ اساتذہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہم حکمرانوںاور بیورو کریسی کو بتادیناچاہتے ہیں کہ اگر ہمارے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے کسی بھی استادکو کچھ ہوا تو حکمرانوں اوربیورو کریسی کوسرچھپانے کی جگہ نہیں ملے گی اب بھی وقت ہے کہ حکمران اور بیور و کریسی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر انکانوٹیفکیشن جاری کرے بصورت دیگراساتذہ بجٹ اجلاس کے گھیرا¶ سمیت مزید سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔


