بلوچستان میں سیاسی جماعتوں سے وابستہ خواتین کو برابری و اختیار دینے کی ضرورت ہے، وومن پولیٹیکل کولیشن

کوئٹہ (آئی این پی) بلو چستان کی سیاسی و سما جی شعبوں سے وابستہ خواتین نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین کی برابری اختیار و وقار کے لئے مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے خواتین کی ووٹ سے لیکر تمام سیاسی جماعتوں کے اندر بشمول مقننہ میں مین اسٹریم کرنے کے مشترکہ کوششوں کے مقصد کےلئے بنایا گیا ہے کولیشن سے خواتین کی سیاسی جدوجہد میں حائل مشکلات انکے بااختیار سیاسی حیثیت اور نئی قانون سازی کے حوالے سے حکومت الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی پارٹیوں کو نئی اور کارآمد تجاویز دی جاسکیں گی۔ ان خیالات کا اظہا ر سابق اسپیکر بلو چستان راحیلہ حمید درانی، ڈاکٹر شمع اسحاق، شمائلہ اسماعیل، کنیز فاطمی مسز شاہدہ ارشاد شازیہ بی بی نعیم مرزا اور دیگر نے خطاب کر تے ہو ئے کیا کوئٹہ پریس کلب میں وومن پولیٹیکل کولیشن کی رابطہ کار سماجی و سیاسی کارکن پاکستان پیپلز پارٹی کی ثناءدرانی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شرکاءکو بتایا کہ یہ کولیشن نگار احمد ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی گرانٹ ایواڈ ہولڈر ٹوڈیز ویمن آرگنائزیشن کے معاون عورت فا¶نڈیشن اور سیپ پی کے کی معاونت سے بلوچستان پولیٹیکل ویمن کولیشن کے نام سے عمل میں لایا گیا ہے کولیشن کے افتتاحی صوبائی سمینار سے سیاسی جماعتوں کی متحرک خواتین رہنما¶ں نے کولیش کے پلیٹ فارم پر ووٹ کے اختیارات سے لیکر پارٹیوں میں خواتین کی برابری انکے کے وقار خواتین کی سیاسی عمل میں فیصلہ سازی اور مواقعوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے ملکر مشترکہ پلیٹ فارم بلوچستان پولیٹیکل ویمن کولیشن کو احسن اقدام قرار دیا ہے اس میں ابتدائی طور پر پارلیمنٹ سے باہر عام خواتین پارٹی رہنما¶ں عہدیداروں اور کارکن خواتین کو کولیشن کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ کولیشن کے اغراض و مقاصد سالانہ منصوبہ بندی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی خواتین کو درپیش مشکلات کے حل کے تدارک کے لئے صوبے میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان و ذمے داران سے ملکر خواتین کے سیاسی و آئینی حقوق کے لئے ان جماعتوں کی معاونت و ساتھ ملکر خواتین کو سیاسی جدوجہد میں حائل مشکلات انکے باختیار سیاسی حیثیت اور نئی قانون سازی کے حوالے سے حکومت الیکشن کمیشن اور تمام نمائندہ سیاسی پارٹیوں کو نئی اور کارآمد تجاویز دی جاسکیں اس فورم کے توسط سے قومی و صوبائی اسمبلیوں و مقامی حکومتوں میں خواتین کی موثر سیاسی نمائندگی کو بہتر و مزید باختیار بنانا ہے انکے جنرل سیٹوں کی تعداد اور اپر تا لوور اسمبلیوں میں مختلف کمیٹیوں کی سربراہی کو بھی یقینی بنانا ہے سیاسی جماعتوں کے اندر خواتین وینگ کے ساتھ ساتھ انھے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیوں میں بھی موئثر سیاسی نمائندگی کو بہتر بنانا ہے تاکہ خواتین باوقار انداز میں تحفظ اور برابری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ سیاسی میدان میں اپنے اپنے پارٹیوں نمائندگی اور اسے بہتر انداز میں پیش کرسکیں نوجوانوں خصوصاً خواتین کو بہتر پارٹی منشور کے زرئعے اپنی اپنی جماعتوں کے پلیٹ فارم پر ملک و صوبے کی ادھے سے زیادہ آبادی کی بہتر خدمات سر انجام دے سکیں محترمہ ثناءدرانی نے شرکاءکو بتایاکہ ہم تمام سیاسی خواتین نے اس خصوصی کولیشن کے خیال پر سیر حاصل گفتگو بحث و مباحثہ کے بعد باہمی مشاورت سے نیا قدم لیا ہے ہم نے بلوچستان کی تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی عام و خاص کارکن خواتین کا ایک غیر سیاسی مشترکہ فورم بنایا ہے جس کے پلیٹ فارم سے خواتین بااختیار و باوقار انداز میں صوبے کی سیاسی میدان میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں گی۔ اس سے پہلے ٹوڈیز ویمن آرگنائزیشن کے ایکٹنگ چیف و پروگرام کے میزبان حسن درانی نے اپنی تنظیم اور عورت فا¶نڈیشن کے اشتراک سے صوبے میں خواتین کے سماجی معاشی قانونی آئینی و سیاسی حقوق اور نگار احمد ریسرچ ایڈوکیسی گرانٹ ایواڈ کے حوالے سے شرکاءکو اہم معلومات فراہم کیں اور آل بلوچستان پولیٹیکل ویمن فورم کو خواتین ممبران کی مشاورت اور تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے ویمن پولیٹیکل کولئشن کے نام سے قائم کرنے کی روئداد بیان کیں سمینار سے عورت فا¶نڈیشن کے رزیڈنٹ ڈائرکٹر علاودین خلجی نے صوبے میں خواتین کی آبادی و سیاسی نمائندگی کے اعداد و شمار بتائے اور موجودہ خلاءکے پر کرنے میں آل بلوچستان پولیٹیکل ویمن فورم کے حوالے سے معلومات فراہم کیں جبکہ بی این پی مینگل کی رہنما شمائلہ اسماعیل نے صوبے میں موجود سیاسی خواتین کو درپیش مشکلات پر شرکاءکو اعتماد میں لیا اور بلوچستان پولیٹیکل ویمن کولیشن کو تمام خواتین کے لے اہم کامیابی قرار دیا انکے بعد سمینار سے معروف قلمکار اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے متحرک نمائندہ اور عورت فا¶نڈیشن کے سربراہ نعیم مرزا نے خصوصی شرکت کی اور پاکستان میں خواتین کے سیاسی تاریخ اور ابتک کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی تقریب سے نیشنل پارٹی عوامی کی کنیز فاطمہ نے جنرل نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کو درپیش مشکلات و رکاوٹوں پر اپنے تجربات شئیر کیے تقریب سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی نمائندگی شازیہ بی بی نے اپنی جماعت میں خواتین کی برابری اور انکے کے مزید بہتری کے گنجائش اور اپنی جماعت کے اہم اقدامات پر گفتگو کی جبکہ جمہوری وطن پارٹی کی مسز شاہدہ ارشاد نے خواتین کی سیاسی جماعتوں سے سالوں کی وفاداری کے ساتھ ساتھ نئے ابھرتی نوجوان خواتین کے سیاسی جماعتوں میں شمولیت پر مختلف قابل ذکر تجاویز دیں اس موقع پر سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور نیشنل پارٹی کی رہنما ڈاکٹر شمع اسحاق نے خواتین کے پرجوش سیاسی عمل پر ضرور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو خوف کے بت توڑ کر اپنے سیاسی حقوق حاصل کرنے کی ہر ممکن کوششیں کرنی ہونگی بلوچستان کی خواتین ہر چیلنج و رکاوٹوں کا سامنا کرسکتی ہیں خواتین کا جنرل نشستوں کے کوٹہ بے معنی و دھوکہ ہے ابادی کے نصف خواتین کو سیاسی طور پر محض کوٹہ سسٹم پر ٹرخانہ سیاسی عدم مساوات کی ایک ناقابل قبول قسم ہے سیمینار سے سابق اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے کولیشن کے قیام کو خواتین کی سیاسی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور شرکاءسمیت تمام سیاسی خواتین کو کولیشن کی مظبوط اور پائداری کے حوالے سے سیر حاصل تجاویز دیں اور کولیشن کو ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا سمنیار کی جج اور خلاصہ ہر معمور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی قومی ممبر سابق استاد و پرفیسر فرخندہ اورنگزیب نے تمام مقررین کے چیدہ چیدہ تجاویز کو قلم کے ذریعے محفوظ کیا اور خلاصہ بیان کرتے ہوئے کولیشن کے قیام اور اسکے کامیابی کے لئے شبانہ روز محنت و خدمات پر محترمہ ثناءدرانی اور تمام خواتین کی کوششوں پر مبارکباد پیش کی اور اس کولیشن کو خواتین کی صنفی مساوات انسانی آئین اور سیاسی حقوق کے لئے دہائیوں سے جاری جدوجہد کے حصول کے لے اہم پیشرفت قرار دیا سمینار میں خصوصی افراد کے نمائندوں کے علا¶ہ مخنص سماجی و سیاسی کارکنان سول سوسائٹی کے نمائندوں مختلف سیاسی جماعتوں کی متحرک خواتین اور یومین رائٹس کونسل کے نمائندوں نے شرکت کی آخر میں تمام ممبران نے علامتی ربن کاٹ کر ویمن پولیٹیکل کولیشن کا مشترکہ افتتاح کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں