جب سے پاکستان بنا بلوچستان کے حکمرانوں سے فنڈ نہ ہونے کا رونا سن رہے ہیں، آل پاکستان کلرکس
کوئٹہ (آن لائن) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ایپکا کے صوبائی ترجمان غلام سرور مینگل کے جاری کردہ بیان کیمطابق ایپکا بلوچستان کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ نے کہا ہے کہ جب سے پاکستان بنا ہے اسی وقت سے لیکر آج بلوچستان کے حکمرانوں کی فنڈ نہ ہونے کا رونا سن رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کے اختتام کے بعد اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ایپکا بلوچستان کے ضلعی صدور اور صوبائی عہدیداوں کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوے کیا اجلاس میں ایپکا کے صوبائی ایڈیشنل سکریٹری علی نواز شاہوانی ۔صوبائی جونیئر نائب اخترجان میں صوبائی پریس سکریٹری غلام سرور مینگل ایپکا کوئیٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری اہپکا خضدار کے صدرمنظور نوشاد سینئر نائب جام ثنا اللہ ایپکا خضدار کےپریس سکریٹری نور احمد مینگل ایپکا قلات کے صدر حسین بخش رئیسانی ایپکا نصیر آباد کے صدر عبداللہ بلوچ جنرل سکریٹری برکت سامت ۔ضلعی عہدیدار برکت گولہ ایپکا لورالائی کے صدر ملک امیر زادہ علیزی جنرل سکریڑی ہفتہ خان ایپکا ژوب کے صدر صحبت خان مندوخیل کوہلو کے چیئرمیں حاجی سیف اللہ مری ایپکا شیرانی کے صدر وجنرل سکریٹری ودیگرشریک ہوے داد محمد بلوچ نے کہاکہ ترقیاتی فنڈ اور دیگر اخراجات اور وزرا کے بندر بانٹ اور عیاشیوں کیلے فنڈ ہے جب سرکاری ملازمیں کے تنخواہوں میں اضافہ کی بات ہوتی ہے تو فنڈنہ ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے سابقہ ادوار میں بھی سابق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں سے 10فیصد ہڑپ کرکے کھاگئے انہوں نے گزشتہ روز وزیر خزانہ بلوچستان کے پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوے کہاکہ بلوچستان حکومت کے ارباب اختیار اسلام آباد سے اپنا حق اس طرح مانگ رہےہیں جس طرح کوءبھکاری بھیک مانگے ۔سیندک اور ریکوڈک اور بلوچستان جیسے امیر سرزمیں کے حکمرانوں کیلے ایسے مایوسی والے الفاظ بلوچستان کے عوام میں احساس کمتری کو مزید جنم دے رہاہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے تمام سرکاری ملازمیں اور غریب عوام کا حق بنتا ہے کہ ریکوڈک ۔سیندک اور معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے آمدنی سے ان طبقات کیلے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جاے انہوں نے ایپکا بلوچستان کے ورکرز کو بلوچستان حکومت کے بجٹ پیش کرنے والے دن یا اس سے قبل اسمبلی کا گھیراو کیلے تیاررہنے کا ھدایت کرتے ہوے کہاکہ ایپکا سرکاری ملازمین واحد نمائندہ تنظیم ہے جو گریڈ ایک تابائیس کا یکسان نمائندگی کرتے ہوے سب کے حقوق کیلے آواز بلند کرہاہے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ ہاﺅس اور پاک سکرہریٹ اسلام آباد کے سامنے شدید گرمی میں دودن تک دھرنادیکر مرکزی حکومت کو ملازمیں کے تنخواہوں۔میں اضافہ کرنے پر مجبور کردیا اب صوبائی حکومت کیلے مرکزی حکومت کے طرز پر بجٹ میں صوبائی ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر ہوچکاہے اگر صوبائی حکومت نے سابقہ دس فیصد اور موجودہ مرکزی بجٹ کے طرز پر تنخواہوں میں اضافہ نہین کیا تو بلوچستان میں سرکاری مشینری کا مکمل جام کریں گے جس کی تمام تر زمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی ۔


