بلوچستان کی 5 جامعات کے وائس چانسلرز کے ناموں کی منظوری یورنیورسٹیز ایکٹ کیخلاف ہے، فپواسا

کوئٹہ :فپواسا کے مرکزی و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فپواسا بلوچستان چیپٹر کے صدر و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے جنرل سیکرٹری پروفیسر فرید خان اچکزئی اور فپواسا بلوچستان چیپٹر کے جنرل سیکرٹری پروفیسر نعمان خان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں صوبائی حکومت کے سیکرٹری ایجوکیشن کی جانب سے صوبے کی پانچ سرکاری جامعات جن میں بیوٹمز، بولان میڈیکل، لورالائی، خضدار انجینئرنگ اور سبی یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کے ناموں کی منظوری کیخلاف یونیورسٹیز ایکٹ 2022 ءقرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کے صفحہ نمبر 20 شق نمبر4 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کےلئے سرچ کمیٹی کے تجویز کردہ تین ناموں کا پینل گورنر/چانسلر کو بھیجا جائے گا اور گورنر/چانسلر ان تین ناموں میں سے کسی ایک کو وائس چانسلر کے لئے نامزد کریگا لیکن حیران کن طور پر صوبائی حکومت نے بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کے صفحہ نمبر 20 کے شق نمبر 4 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود سے سرچ کمیٹی کے تجویز کردہ تین ناموں میں سے ایک کو نامزد کیا اور سبی یونیورسٹی کے حوالے سے مضحکہ خیز طور پر سرچ کمیٹی کی جانب سے پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار کی بجائے تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو نامزد کیا ہے بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کے صفحہ نمبر 20 کے شق نمبر4 کے مطابق سرچ کمیٹی کی جانب سے یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کےلئے پینل آف تھری کا لسٹ چانسلر کو بھیجا جائے تاکہ چانسلر بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کے صفحہ نمبر 20 کے شق نمبر 4 کے مطابق پینل آف تھری میں سے کسی ایک امیدوار کو وائس چانسلر کے لئے نامزد کریں اگر صوبائی حکومت نے وائس چانسلر کی تعیناتی میں خلاف بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 فیصلہ کیا تو یہ کھلم کھلا میرٹ کے برعکس فیصلہ تصور ہوگا جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا ئے گا اور میرٹ کے برعکس تعنیاتی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں