ساحلی علاقوں سے انخلا انتہائی ضروری ہے ،لوگ رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں، شیری رحمان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان نے کہا ہے کہ ساحلی علاقوں سے انخلا انتہائی ضروری ہے اور لوگ رضاکارانہ طور پر بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ بحیرہ عرب سے بننے والے سمندری طوفان بائپرجوئے کے اثرات کراچی پر رونما ہوں گے، طوفان اپنے متعین راستے پر چل رہا ہے جوکہ آج (جمعرات کو) ساحل سے ٹکرائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس راستے کی پیشگوئی کی گئی یہ اس پر چل رہا ہے، کراچی سے طوفان نہیں ٹکرائے لگا لیکن اس کے اثرات شہر پر رونما ہوں گے جب کہ بپر جوئے کیٹی بندر سے ٹکرائے گا۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کراچی کے علاقے ملیر سے انخلا کیا جائے گا، ساحلی علاقوں سے انخلا انتہائی ضروری ہے اور لوگ رضاکارانہ طور پر بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ طوفان کا رخ تبدیل ہونے کے باوجود ہم نے الرٹ برقرار رکھے ہیں، طوفان کے باعث تیز ہوائیں اور بارشیں متوقع ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے حفاظتی اقدامات کے لئے تیار ہیں، متاثرین کو اسکولوں اور پکی عمارتوں میں منتقل کیا گیا جب کہ متاثرین کے لئے خیمے بھی لگادیئے گئے ہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ طوفان کی رفتار 150 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، لہذا شہریوں سیاحتیاطی تدابیر کی اپیل ہے جب کہ ماہی گیروں سے درخواست ہے ساحل سے دور رہیں۔فلائیٹ آپریشنز سے متعلق وفاقی وزیر برائے ماحولیات کا کہنا تھا کہ چھوٹے جہازوں کا فلائیٹ آپریشن بند کر رہے ہیں اور بڑے جہازوں کے لئے صورتحال کے مطابق ایڈوائزری جاری کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں