نوازشریف سے معافی مانگ کر اسے ریڈ کارپٹ پر واپس لایا جائے ،جاوید لطیف
اسلام آباد (صباح نیوز)وفاقی وزیرمیاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کو زبردستی ہٹانے پر کیا جے آئی ٹی نہیں بننی چاہئے، نوازشریف سے معافی مانگ کر اسے ریڈ کارپٹ پر واپس لایا جائے بدھ کوقومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ سمیت بجٹ میں بہت کچھ ناکافی ہے، امریکہ میں تو فائل چھپانے پر ایک سابق صدر کو گرفتار کرلیا گیا ہے یہاں ایک شخص کو ہر طرح سے چھوٹ مل رہی ہے آج ایک عالمی سپرپاور کیا کچھ نہیں کررہی ۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمارے ساتھ معاہدے سیاسی استحکام لانے کا کہہ کر نہیں کررہا ،کیا کسی ملک میں سیاسی استحکام آئی ایم ایف کا استحقاق ہے، نومئی کے واقعہ پر ثبوت ہونے کے باوجود اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جارہا ،چیزیں اس طرح دبائی جائیں گی تو پاکستان کیسے چلے گا ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہاں دہشتگردوں کو تو گرفتار کیا جاتا ہے مگر نومئی کے واقعات کے سہولت کاروں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا،آج تو حاضر و سابق بہت سے اعتراف کررہے ہیں کہ نوازشریف سے ظلم کیا گیا ، ان اداروں نے ملکر اس بت کو کھڑا کیا آج بھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آج زیادتی کی جارہی ہے اگر اداروں کی جانب سے ثبوتوں کے ساتھ چیزیں بتائی جائیں گی تو نوجوان نسل کا ذہن کلئیر ہوگا اگر اداروں نے ذمہ داری پوری نہ کی تو پاکستان کا چلنا مشکل سے مشکل ہوتا جائے گا اگر کوئی معزز جج کہے کہ جو پریس کانفرنس کرے گا وہ رہا ہوجائے گا جو نہیں کرے گا وہ رہا نہیں ہوگا ان معزز جج سے پوچھتا ہوں کہ یاسمین راشد کو بری کردیں گے جب پرویزالہی کو بغیر اداروں کو نوٹس دیئے بری کردیں گے جب ایسا ہوگا تو پھر کیا ہوگا، جے آئی ٹی میں دفاعی ادارے کے افسر کا نام لیکر الزامات لگائے جانے پر کہتا ہے کہ اسے کسی نے بتایا تھا کیا نوازشریف کو زبردستی ہٹانے پر جے آئی ٹی نہیں بننی چاہئے، کیا ارشد شریف کی والدہ کے مطالبے کے بعد اس شخص کو شامل تفتیش نہیں کرنا چاہئے اس شخص کا نام کوئی کیوں نہیں لے رہا جب وہ کسی کا نام لے تو شور اٹھایا دیا جاتا ہے، نوازشریف سے معافی مانگ کر اسے ریڈ کارپٹ پر واپس لایا جائے ۔نومئی واقعہ کے بعد اب ریڈ کارپٹ کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے جتنی جلد نوازشریف کو وطن واپس لاو گے اتنی جلدی پاکستان چلے گا ادارے دیر کئے بغیر نوازشریف کو واپس لائیں۔


