سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت کمزور پڑگئی
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت کمزور پڑگئی جس کے بعد طوفان سندھ کے ساحلوں سے دور ہونے لگا ۔محکمہ موسمیات نے طوفان بپر جوائے سے متعلق 29 واں الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق طوفان کی شدت کمزور پڑنے کے بعد ایک درجہ کم ہوگئی ۔کیٹی بندر سے 125 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہےجبکہ طوفان کا فاصلہ کراچی سے 225کلو میٹر تک پہنچ گیا، اس وقت طوفان کے مرکز کے گرد ہوائوں کی رفتار تقریباً 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔این ڈی ایم اے کے مطابق طوفان کے باعث شمال مشرقی بحیرہ عرب میں لہریں 10 سے 15 فٹ تک بلند ہو سکتی ہیں جبکہ کیٹی بندر اور اطراف میں لہریں 6 سے 8 فٹ تک بلند ہوسکتی ہیں۔محکمہ موسمیات نے طوفان کے اثرات سے کراچی اور سندھ میں بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ آج (ہفتہ کو) جاری رہے گا۔گزشتہ روز سندھ کی ساحلی پٹی سے سمندری طوفان ٹکرایا تھا۔ سمندری طوفان کا ابتدائی حصہ بھارتی ریاست گجرات کے علاقے سوراشترا اور کچھ (جکھا پورٹ)کے ساحل سے ٹکرایا، سمندری طوفان بپر جوائے کے مرکز کا سائز تقریبا 50 کلومیٹر تھا۔پاکستان کی ساحلی پٹی سے ٹکرانے پر کیٹی بندر، کھارو چان، شاہ بندر، جاتی، بدین سمیت ملحقہ خطے متاثر ہوئے۔سمندری طوفان کے باعث ٹھٹھہ، بدین اور دیگر علاقوں میں بارش اور تیز ہوائوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے حفاظتی دستے علاقوں میں موجود ہیں جبکہ مکینوں کو حفاظتی مقامات کی طرف منتقل کردیا گیا ۔ کیٹی بندر، ٹھٹھہ، سجاول میں ہوا کی رفتار بہت تیز رہی جبکہ وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ بھی جاری رہا، تیز ہوا کے سبب کیٹی بندر میں پول، درخت گر گئے جبکہ مکانات کی چھتیں بھی اڑیں، آبادی کے بروقت انخلا کی وجہ سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔طوفان کے مرکز میں ہوائیں 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلی جبکہ طوفان کے مرکز اور اطراف میں 30 فٹ بلند لہریں اٹھی۔بپر جوائے کے اثرات کے سبب کراچی کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ علاوہ ازیں حیدرآباد، ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ اور شہید بینظیر آباد، کیٹی بندر میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ طوفان کی ممکنہ آمد کے پیش نظر 1800 میگاواٹ والے ونڈ پاور پلانٹ کو بند کیا گیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق طوفان شدت کے پیش نظر شہری اور بالخصوص ساحلی پٹی کے قریب کے رہائش بہت زیادہ محتاط رہیں۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق فوج سمیت تمام متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں۔


